مجھے غدار نہ کہو: الطاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین حال ہی میں بھارت میں دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کے بارے میں دیے گئے بیانات کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ بدھ کوانہوں نے لاہور پریس کلب میں ٹیلی فون کے ذریعے ڈیڑھ گھنٹے تک خطاب کیا اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیے۔ایک طویل عرصہ بعد ان کا لاہور کے صحافیوں سے یہ پہلا رابطہ تھا۔ انہوں نے ایک سے زیادہ بار تنبیہ کے انداز میں کہا کہ ان کو غدار کہنے والے اور ان کے بیان پر ہنگامہ مچانے والے ملک کے لیے اچھا نہیں کر رہے۔ انہوں نے اپنے نقادوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ اگر وہ غدار ہیں تو وہ بھی غدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی غدار نہیں ہوتا ہمارا طرز عمل اسے غدار بنا دیتا ہے۔ انہوں نےاس سلسلہ میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی مثال بھی دی جو ان کے خیال میں ملک توڑنا نہیں چاہتے تھے۔ ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزراء جیسے فاروق ستار ، صفوان اللہ اور عامر لیاقت پریس کلب کے ڈائس پر بیٹھے تھے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے ایک سے زیادہ مرتبہ صحافیوں سے کہا کہ الطاف حسین ان کے مہمان ہیں اور وہ ان سے ایسا کوئی سوال نہ کریں جو ذاتی نوعیت کا ہو یا جس سے تعصب کی بو آتی ہو۔ الطاف حسین نے اپنے طویل خطاب میں زیادہ وقت اپنا دفاع کرتے ہوئے اور فوجی جرنیلوں اور اپنے مخالفین پر تنقید میں صرف کیا۔ الطاف حسین نے تسلیم کیا کہ انہوں نے انڈیا میں یہ کہا تھا کہ اگر وہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت موجود ہوتے تو تقسیم کے خلاف ووٹ دیتے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملک کو جنہوں نے توڑا اس کے بارے میں ان کے ناقدین کی زبانیں خاموش کیوں ہیں۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ دو قومی نظریہ مسلمانوں کی جداگانہ تہذیبی شناخت کی بناد پر پیش کیا گیا اور بعد میں اس میں انگریز تبدیلیاں کراتے رہے اور اسے چار صوبوں تک محدود کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ پاکستان کے مخالف نہیں ہیں اور ایک علمی بحث کو تعصب کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو قومی نظریہ کو ’ آپ نے توڑا اور سزا الطاف حسین کو دی جائے۔‘ غالباً ان کا روئے سخن نوائے وقت اخبار اور ان لکھنے والوں کی طرف تھا جنہوں نے ان کے انڈیا میں دیے گئے بیانات پر سخت تنقید کی ہے۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں جھوٹے بیانات اور الزامات پھیلائے گئے ہیں جن میں سے ایک الزام یہ تھا کہ وہ جناح پور بنوانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی فوج اور بیوروکریسی کی طرف سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ الطاف حسین ملک دشمن ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ جہاں ملے اس کے خلاف جہاد کرو۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان میں جاری جاگیرداری نظام کے خلاف ہیں جبکہ پاکستان میں جاگیرداروں اور فوجی جرنیلوں کے درمیان رشتہ داریاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو جرنیل ریٹائر ہوتا ہے وہ جاگیر دار بن جاتا ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ فوج نے جس قبائلی لشکر کو انیس سو اڑتالیس میں کشمیر فتح کرنے کے لیے بھیجا تھا اس نے کشمیریوں پر اسلام کے نام پر بھیانک مظالم کیے اور یہ کام الطاف حسین نے تو نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں تو الطاف حسین کا ہاتھ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کارگل میں پاکستان کی فوج نے جس بےشرمی سے پسپائی اختیار کی اس میں تو الطاف حسین کا ہاتھ نہیں تھا۔ الطاف حسین نے کہا کہ انہوں نے بھارت میں یہ نہیں کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنادیا جائے بلکہ یہ کہا تھا کہ مذاکرات کو بامقصد اور پر خلوص بنانے کے لیے کشمیر کے مسئلہ پر لائن آف کنٹرول کو عارضی سرحد تسلیم کرلیا جائے اور دونوں ملکوں کی ایک مشترکہ فوج اس کی نگرانی کرے۔ الطاف حسین نے شکوہ کیا کہ ان کی بھارت میں کی گئی تقریر کو توڑ مروڑ کر چھاپاگیا اور ان کی کئی باتیں شائع نہیں کی گئیں مثلاً یہ بات کسی نے نہیں اچھالی کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر پر مذاکرات تو کرسکتے ہیں لیکن کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو شامل کیے بغیر نہ پاکستان کرسکتا ہے اور نہ بھارت۔ الطاف حسین نے کہا کہ ان کے اس بیان پر ہنگامہ مچادیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہنگامہ کرنے والے ملک کے لیے اچھا نہیں کررہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سیاسی رہنما کے لیے غدار کے لفظ استعمال کیے جارہے ہیں جس کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد سب کے سامنے ہے۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک میں واپس آنے دیا جائے اور وہ اپنا کردار اد کریں لیکن ان کا نام نہیں لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نو سال سے پاکستانی پاسپورٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے جو اب تک انہیں نہیں ملا اور مجبوراً انہوں نے برطانوی پاسپوٹ لیا جو اور بھی لاکھوں پاکستانیوں نے لے رکھا ہے۔ الطاف حسین نے فوج پر کڑی تنقید کی لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا اور موجودہ حکومت میں شامل رہنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑی سی جمہوریت سرے سے جمہوریت نہ ہونے سے بہتر ہے اور اس حکومت میں میڈ یا کو بہت آزادی حاصل ہے۔ الطاف حسین نے یہ بھی کہا کہ حزب اختلاف صرف جنرل مشرف کو نشانہ بنارہی ہے جبکہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو پیپلز پارٹی سمیت سب نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔ الطاف حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوج کی پالیسیوں کا احتساب کرنے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے اور خود ان کے خلاف الزامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن بنایاجائے تاکہ ان کے بقول وہ الزامات سے بری ہوسکیں۔ الطاف حسین نے یہ بھی کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں ایک نکتہ پر اتفاق کرلیں کہ ملک میں فوجی جرنیلوں کا سیاسی کردار ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے تو وہ حکومت چھوڑ کر حزب اختلاف میں شامل ہوکر تحریک چلانے کے لیے تیار ہیں لیکن ایسا نہ ہو کہ انیس سو ستتر کی طرح تحریک چلے اور کوئی جنرل ضیا آجائے اور تحریک چلانے والے لوگ اس کی کابینہ میں شامل ہوجائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||