90 فیصد پولنگ سٹیشن حساس ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں نوے فیصد پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ اندرون سندھ کے گیارہ اضلاع کے چالیس فیصد پولنگ سٹیشن حساس ہیں۔ سندھ پولیس نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ ان کو الیکشن ڈیوٹی کے لیے مزید فورس اور فنڈز درکار ہونگے۔ کراچی کی 169 یونین کاؤنسلوں اور اندرون سندھ کےگیارہ اضلاع کی 589 یونین کونسلوں میں اٹھارہ اگست کو پولنگ ہوگی۔ جبکہ نتائج کا اعلان بیس اگست کو کیا جائے گا۔ سندھ کے پولیس سربراہ اسد جہانگیر نے الیکشن کمیشن کو آگاھ کیا ہے کہ سندھ میں پولیس کی قوت نوے ہزار کے قریب ہے۔ جس میں سے کراچی میں پچپن ہزار درکار ہیں۔ تئیس ہزار ریگولر پولیس کے لوگ موجود ہیں جبکہ دیگر فورس پولیس ٹریننگ اسکولز اور ریزرو فورس سے مقرر کی جائے گی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کی کہ نجی سیکیورٹی گارڈز مقرر کرنے کی اجازت دی جائےجن کو غیر حساس پولنگ اسٹیشنز پر مقرر کیا جائے گا۔ جبکہ رینجرز سے بھی مدد لی جائے گی۔ سندھ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ پولیس نے اس الیکشن کی نگرانی کے لیے تین مراحل بنائے ہیں۔ جس میں موبلائزیشن، کمیونیکیشن اور امیدواروں اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات شامل ہیں۔ کراچی میں چیف الیکشن کمیشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سندھ میں امن امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں سندھ کے اضلاع کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے شرکت کی اور اپنے مسائل بیان کیے۔ آئی جی سندھ اسد جہانگیر نے بتایا کہ کراچی میں ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک سب انسپکٹر اور پانچ اہلکار مقرر کیے جائیں گے۔ جبکہ الیکشن ذمہ داری کے لیے سندھ پولیس کو باون ملین روپے درکار ہیں اور اس کے علاوہ ساٹھ ملین روپے رینجرز کے خرچہ کے لیے درکار ہونگے۔ سندھ حکومت کے چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور پولیس سربراہ نے الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کروائی کہ وہ صوبائی حکومت امن و امان کو ہر صورت میں قائم رکھے گی اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درامد کیا جائے گا اور الیکشن عملے کی مکمل تقرری کردی جائیگی۔ سیکریٹری داخلہ نے بتایاکہ کراچی میں کچھ لوگ یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ امن وامان کی صورتحال خراب ہے اور یہاں فوج کو طلب کیا جائے۔ مگر بقول ان کے یہاں پر ایسی صورتحال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں ایم کیو ایم کی بائیکاٹ کی وجہ سے شہری علاقوں میں میدان کھلا مل گیا تھا۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے انہیں ہدایت کی کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر ہو رہے ہیں اس وجہ سے وہ کسی پارٹی کا نام نہ لیں اور غیر جانبدار رہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے بعد میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ اس کو نبھا رہی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ نوے فیصد پولنگ اسٹیشن اگر حساس ہیں تو کیا پولیس اور سول انتظامیہ واقعی امن امان برقرار رکھے سکے گی اور اس صورت میں فوج کوطلب کیوں نہیں کیا جاسکتا تو جسٹس عبدا! لحمید ڈوگر نے کہا کہ امن امان صوبائی معاملہ ہے۔جو بھرتی ضروری سمجھی جائے گیوہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ انتخابات غیر جماعتی ہیں اس وجہ سے سیاسی جماعتوں کی مطالبات اہمیت نہیں رکھتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||