BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 July, 2005, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلدیاتی انتخابات: امن و امان کا مسئلہ

چیف الیکشن کمشنر
چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر پریس کانفرنس کرتے ہوئے( فائل فوٹو)
’پاکستان الیکشن کمیشن‘ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد کراچی سمیت مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انتخابی سرگرمیاں روز بروز پکڑ رہی ہیں۔

قانون کے مطابق تو یہ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر کرائے جارہے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں پھر بھی ماضی کی طرح اپنے حامیوں کو نامزد کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔

یوں تو بلدیاتی انتخابات کے دوران ہر حلقہ اپنے طور پر کسی نہ کسی اعتبار سے اہمیت اور دلچسپی کا حامل ہوتا ہے لیکن حکمران اتحاد کی کوشش ہوگی کہ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں کے ضلعی ناظم ان کے حامی ہی بنیں۔

کراچی میں اس بار حکمران اتحاد کی ایک اہم جماعت ’متحدہ قومی موومنٹ‘ یعنی ’ایم کیو ایم‘ بھی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی ضلعی ناظم حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ اس بلدیاتی نظام کے تحت جب چار برس قبل انتخابات منعقد ہوئے تھے تو اس وقت ’ایم کیو ایم‘ نے حصہ نہیں لیا تھا۔

جس کی وجہ اس جماعت کے رہنماؤں نے ’تنظیمی فیصلہ‘ بتایا تھا لیکن کچھ مبصرین نے کہا تھا کہ جب بلدیاتی انتخابات ہوئے اس وقت ’ایم کیو ایم‘ پیپلز پارٹی کے دور میں لگے ہوئے زخم چاٹ رہی تھی۔

مبصرین نے یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت ’ایم کیو ایم‘ کو صوبہ سندھ کے صرف دو شہروں کراچی اور حیدرآباد میں تمام سطحوں پر امیدوار کھڑے کرنے کے لیے پچاس ہزار سے بھی زیادہ لوگ درکار تھے۔ ان کے مطابق تنظیم نو کے دور سے گزرنے والی اس جماعت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں اپنے لوگوں کو اس وقت مصروف نہیں کرنا چاہتی تھی۔

ایم کیوایم کی عدم دلچسپی کے بعد کراچی کے ضلعی ناظم مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ نے کانٹے دار مقابلے کے بعد مبینہ حکومتی ’ڈھیل‘ کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی سے جیت لی تھی۔ لیکن اس بار سوا کروڑ آبادی والے اس شہر میں گزشتہ کامیابی کو برقرار رکھنا ان کے لیے ایک بڑا چیلینج ہوگا۔

گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران کراچی میں پیش آنے والے بعض پرتشدد واقعات کے الزامات دونوں جماعتیں یعنی’ایم کیو ایم‘ اور ’ایم ایم اے‘ ایک دوسرے پر عائد کرتی رہی ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیاں پائی جانے والی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ بلدیاتی انتخابات کے دوران کراچی میں امن امان قائم رکھنا سکیورٹی ایجنسیز کے لیے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ قاضی حسین احمد کو کچھ ہفتے قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر چھوڑ کر واپس جانے والی کار کو جب جلایا گیا تھا تو انہوں نے ایم کیو ایم پر الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کار جلا کر انہیں قتل کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔

ان کے اس بیان کو ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مسترد کردیا تھا اور جوابی الزام لگایا تھا کہ کراچی میں متحدہ مجلس عمل بدامنی پیدا کر رہی ہے۔

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں آئندہ کچھ دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ ایسے اتحادوں کی صورت میں سامنے آسکتا ہے جو بظاہر مشکل سے ہی بنتے ہیں۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ اور ’ایم ایم اے‘ کے درمیاں مختلف نشستوں کے لیے ایڈجسٹمینٹ ہوسکتی ہے۔ کچھ نشستیں تو ایسی بھی ہیں جہاں ’اے آر ڈی‘ کی دونوں بڑی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان بھی اختلاف رائے پیدا ہوسکتا ہے۔

تین مرحلوں میں منعقد کیے جانے والے ان مجوزہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جہاں حکومتی اتحاد کی جماعتوں میں مختلف اضلاع کی نظامت کے حصول پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے وہاں حزب اختلاف کے اتحاد ’اے آر ڈی‘ کی صورتحال بھی ان سے مختلف نہیں۔

اس بار اگر کچھ اراکین اسمبلی مستعفی ہوکر ضلعی ناظم کا انتخاب لڑتے ہیں تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بلدیاتی نظام کے متعارف ہونے کے بعد جس طرح ترقیاتی فنڈز اور اختیارات ضلعی ناظمین کو دیے گئے ہیں اس کے بعد تو کئی موجودہ اراکین اسمبلی بھی اپنی رکنیت سے اس عہدے کو اہمیت کا حامل قرار دیتے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا جو شیڈول دیا ہے اس کے مطابق تین مرحلوں پر مبنی انتخابی عمل سولہ جولائی سے شروع ہو گا اور انتیس ستمبر تک چلے گا۔

انتخابات کے پہلے مرحلے میں ملک کے چون اضلاع میں الیکشن کرائے جائیں گے جن میں سندھ اور سرحد کے صوبائی دارالحکومت کراچی اور پشاور شامل ہیں۔ پہلے مرحلے کے انتخابات کے لیے پولنگ اٹھارہ اگست کو ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں ملک کے چھپن اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور ان کی پولنگ پچیس اگست کو ہو گی۔

تیسرے مرحلے میں بالواسطہ انتخابات ہوں گے جو کہ ضلع، تحصیل، تعلقہ اور ٹاؤن کے ناظمین کے انتخابات کے لئے ہوں گے اور ان کی پولنگ انتیس ستمبر کو ہو گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ساڑھے پندرہ کروڑ آبادی والے ملک میں چھ کروڑ چھبیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹر چھ ہزار چالیس یونین کونسلوں کے نمائندے منتخب کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد