BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 June, 2005, 11:16 GMT 16:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلدیاتی انتخابات: شیڈول کا اعلان

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر
جسٹس ڈوگر نے آزادانہ الیکشن کمشن کے قیام کا مطالبہ مسترد کر دیا
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق یہ انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر تین مرحلوں میں منعقد کئے جائیں گے۔ان انتخابات میں وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمان بھی حصہ لے سکیں گے۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اسلام آباد میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں ان انتحابات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابی عمل سولہ جولائی کو شروع ہو گا اور انتیس ستمبر تک چلے گا۔

اس شیڈول کے اعلان کے بعد 24 گھنٹے کے اندر تمام ضلعی، تحصیل اور یونین کونسلیں توڑ دی جائیں گی اور تمام صوبوں کے چیف سیکٹری، سرکاری ملازمین کو ان بلدیاتی اداروں کا نگران مقرر کر دیں گے۔

انتخابات کے پہلے مرحلے میں ملک کے ستاون اضلاع میں الیکشن کرائے جائیں گے جن میں سندھ اور سرحد کے صوبائی دارالحکومت کراچی اور پشاور شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں کاغذات نامزدگی سولہ جولائی سے جاری کئے جائیں گے اور اٹھارہ سے بیس جولائی تک ان کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد اس مرحلے کی پولنگ اٹھارہ اگست کو ہو گی۔

دوسرے مرحلے میں ملک کے تریپن اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور ان کی پولنگ پچیس اگست کو ہو گی۔

تیسرے مرحلے میں بالواسطہ انتخابات ہوں گے جو کہ ضلع، تحصیل، تعلقہ اور ٹاؤن کے ناظمین کے انتخابات کے لئے ہو گے جس کے لئے پولنگ انتیس ستمبر کو ہو گی۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ان انتخابات میں چھ کروڑ چھبیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ملک کی چھ ہزار چالیس یونین کونسلوں کے نمائندے منتخب کریں گے۔

حزبِ اختلاف کے مطالبے کا کیا بنا؟
جسٹس ڈوگر نے حزب اختلاف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا جس میں حزب اختلاف کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے ملک میں آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زیر نگرانی الیکشن کمیشن خود مختار اور آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے اور انھیں کہیں سے بھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے والوں کے لئے ضابطۂ اخلاق بھی جاری کیا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کو شفاف اور آزادانہ بنانے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔

جسٹس ڈوگر نے حزب اختلاف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا جس میں حزب اختلاف کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے ملک میں آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان کی زیر نگرانی الیکشن کمیشن خود مختار اور آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے اور انہیں کہیں سے بھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حکمران جماعتوں اور ان کی حلیف جماعتوں کے ایک سو تیس ارکانِ قومی اسمبلی نے گذشتہ ہفتے صدر جنرل پرویز مشرف کو ان انتخابات کو مؤخر کرنے کے بارے میں ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان انتخابات سے پہلے بلدیاتی سطح پر ہونے والی مالی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔

ان ارکان قومی اسمبلی کے مطابق صرف پنجاب کے چونتیس اضلاع میں پانچ ارب روپے سے زائد کی بد عنوانیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کرپٹ ناظمین کے کیسز بھی قومی احتساب بیورو کو بھیجنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ان ناظمین کا احتساب نہ کیا گیا تو بلدیاتی انتخابات میں پھر سے کرپٹ لوگ سامنے آ جائیں گے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد لگتا ہے کہ حکومت نے ان ارکان اسمبلی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے ان انتخابات میں مشترکہ پلیٹ فارم سے اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے ان کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد