BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 October, 2004, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سولہ منتخب ارکان پر پابندی

چیف الیکش کمشنر ارشاد حسن خان نے سولہ ارکان پر پابندی عائد کردی ہے
چیف الیکش کمشنر ارشاد حسن خان نے سولہ ارکان پر پابندی عائد کردی ہے
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر نے چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سولہ اراکین کو کام کرنے سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک متعلقہ اراکین اپنے اثاثے اور قرضہ جات کے سالانہ گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے ان پر پابندی برقرار رہے گی۔

قانون کے مطابق پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تمام اراکین ہر سال تیس جون کو ختم ہونے والے سال کے لیے تیس ستمبر تک اپنے، شریک حیات اور والدین پر انحصار کرنے والے بچوں کے نام اپنے اثاثے اور قرضہ جات کے گوشوراے داخل کرنے کے پابند ہیں۔

الیکشن کمیشن سے جمعہ پندرہ اکتوبر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن اراکین کو کام سے روکا گیا ہے ان میں آٹھ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں، جبکہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے چار، ایک سرحد اور تین بلوچستان اسمبلی کے اراکین ہیں۔

قانون کے مطابق گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کو چیف الیکشن کمشنر کام کرنے سے روک سکتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے جن اراکین پر پابندی عائد کی ہے وہ متعلقہ اسمبلی یا اسمبلی کی کسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے اور نہ ہی ووٹ دینے کے مجاز ہیں۔

الیکشن کمیشن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کو اپنے فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے جن اراکین پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں جھنگ سے منتخب ہونے والے فیصل حیات، سیالکوٹ کے خوش اختر سبحانی، نارو وال سے پیر سید سعید الحسن، لاہور کے رانا محمود الحسن اور رانا محمد تجمل حسین، قصور سے چودھری محمد الیاس، وہاڑی کے ڈاکٹر نذیر احمد ڈوگر اور خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی خالدہ منصور شامل ہیں۔

سرحد کی صوبائی اسمبلی کے کوہاٹ سے منتخب ہونے والے رکن شاد محمد خان پر چیف الیکشن کمشنر نے پابندی عائد کردی ہے۔

سندھ کی صوبائی اسمبلی کے جیکب آباد سے منتخب ہونے والے رکن میر غلام عابد سندرانی اور لاڑکانہ کے الطاف حسین انڑ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جبکہ سندھ میں خواتین اور اقلیت کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے مسمات فرزانہ اور یعقوب الیاس کو بھی چیف الیکشن کمشنر نے کام کرنے سے روک دیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے لورالائی سے سردار مسعود علی خان، ضلع کچھی سے محمد عاصم کرد اور قلات سے منتخب ہونے والے پرنس فیصل داؤد کے کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق جیسے ہی متعلقہ اراکین اپنے گوشوارے جمع کرائیں گے ان پر عائد پابندی ختم کی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد