خواتین کو امیدوار نہ بنانے پر مفاہمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے علاقے دیر کی طرح اب بٹگرام سے بھی اطلاعات ہیں کہ دو بڑی مقامی سیاسی جماعتوں نے باہمی معاہدے کے تحت خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور معاہدے کی خلاف روزی کرنے والی جماعت کےخلاف سیاسی اور مقامی تمدن کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔ بٹگرام کے ضلعی بار روم میں سنیچر کو ایک اجلاس میں جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ (ق) کے عوامی نمائندوں اور عمائدین کا ایک اجلاس ہوا جس میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں خواتین کی نشتوں کے بارے میں تفصیلی غور ہوا۔ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بٹگرام کے رسم و رواج اور ثقافت کو وجہ بتاتے ہوئے متفقہ فیصلہ کیا کہ خواتین نشتوں پر کسی صورت میں امیدوار نہیں لائے جائیں گے۔ اجلاس میں شریک افراد نے اپنے خاندان، گروپ یا پارٹی کی جانب سےضمانت دی کہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے گا۔ معاہدے کے تحت اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کی تو دیگر شرکاء متفقہ طور پراس کے خلاف سیاسی اور مقامی تمدن کے مطابق کارروائی کریں گے۔ بی بی سی کو ملنے والی اس معاہدے کی ایک نقل کے مطابق اس پر جمعیت علماء اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ق) کے دس رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔ ان میں مقامی رکن قومی اسمبلی قاری محمد یوسف، اسی جماعت کے صوبائی وزیر الحاج محمد ایاز خان، مسلم لیگ (ق) کے سابق وفاقی وزیر برائےامور کشمیر حاجی فقیر مہمند خان، اسی جماعت کے سابق ایم این اے محمد نواز خان الائی بھی شامل ہیں۔ یہ فیصلہ کافی حیران کن ہے کیونکہ ابھی دیر میں اسی طرح کی پابندی پر غیرسرکاری تنظیموں کے جانب سے واویلا جاری ہے۔ تاہم کئی سیاسی جماعتوں نے دیر کے کسی ایسے معاہدے کی تردید کی ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صوبائی سربراہ رحیم داد خان نے جمعہ کو پشاور تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے کہ دیر میں انتخابات میں وہ کن کن نشتوں پراور کل کتنی خواتین کوبطور امیدوار کھڑا کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||