پولیس سے بچاؤ، خاتون کی التجا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ عرب امارات سے گھر بار چھوڑ کر صوبہ سرحد کے ایک پٹھان کے ساتھ شادی کرنے والی عرب خاتون نے حکومت پاکستان سے اسے پولیس سے بچانے کی درخواست کی ہے۔ شیخہ نامی اس عورت کا کہنا ہے کہ پولیس اسے اس کے ملک کے سفارت خانے کے دباؤ کے تحت واپس لیجانے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے جان کا خطرہ ہے۔ اکیس سالہ شیخہ محمد حمود الحمادی کا تعلق متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے علاقے سے ہے۔ وہ اس ماہ کی سات تاریخ کو دوبئی سے صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے اپنے سابق ڈرائیور پینتیس سالہ جمعہ راز خان کی محبت میں کھچی چلی آئی اور اس سے اسی روز نکاح کر لیا ہے۔ یہ محبت کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی اور پولیس معمول کے مطابق ولن کے طور پر سامنے آئی۔ آج پشاور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شیخہ نے کہا کہ اس کے بھائیوں کے کہنے پر متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ پولیس پر اسے پکڑ کر ان کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جس کی وجہ سے وہ چھپتے پھر رہے ہیں۔ شیخہ کا جو پاکستان تین ماہ کے وزٹ ویزا پر آئی ہیں کہنا تھا کہ انہوں نے قامونی طور پر تین گواہوں کی موجودگی میں شادی کی ہے جس میں ان کی رضامندی شامل تھی۔ ’میری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ مجھے پاکستانی شہریت کا حق دیا جائے۔ شہریت کے ملنے تک میرا ویزا غیرمعینہ مدت کے لیے بڑھایا جائے۔‘ ان کے شوہر جمعہ راز خان نے بتایا کہ وہ شیخہ کے والد کے پاس چار پانچ برس سے بطور ڈرائیور کام کر رہے تھے جنہوں نے اسے ایک لاکھ درہم کے بدلے انہیں نکاح میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد شیخہ کے بھائی اس کے دشمن ہوگئے۔ پولیس کے رویے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پولیس نے انہیں بہت تنگ کیا ہے۔ ’پولیس ہمیں ذلیل کر رہی ہے۔ خدا را اس کے ظلم سے ہمیں بچائیں۔ ہم نے شریعت محمدی کے تحت باقاعدہ نکاح کیا ہے۔’ جمعہ راز خان نے پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ توقع ہے کہ عدالت اس کی درخواست کی سماعت جمعرات کے روز کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||