BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 April, 2005, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے پھر جیت گئی

News image
صوبہ سرحد میں ایوان بالا یا سینیٹ کی خالی نشست پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار قاری محمد عبداللہ بِلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں صوبے میں حزب اختلاف ایک مرتبہ پھر بری طرح اختلافات کا شکار نظر آئی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے قاری عبداللہ کی کامیابی تو پہلے سے یقینی تھی لیکن جس انداز سے بالآخر یہ نشست انہیں ملی اس نے کئی لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

اس حیرت کی بڑی وجہ سرحد اسمبلی میں حزب اختلاف کا کردار ہے جو کہ کئی مبصرین کی نظر میں انتہائی مبہم اور غیرسنجیدہ رہا۔ وہ آغاز سے منقسم نظر آئی اور آخر تک اس تقسیم میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ کسی ایک امیدوار پر متفق نہ ہونے سے اس کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا۔

اور شاید سب سے زیادہ نقصان مرکز میں حکمراں مسلم لیگ کو اٹھانا پڑا۔ ایک جانب تو اس نے ایوان بالا میں خلیل الرحمٰن کوگورنر سرحد بنا کر نہ صرف ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ بلکہ یہ نشست بھی کھو دی۔ خود مسلم لیگ کے اندر اس فیصلے کے خلاف اعتراضات سامنے آئے۔

دوسری جانب صدر پرویز مشرف اور ان کی حمایت یافتہ جماعت مسلم لیگ آئندہ انتخابات میں عوام کو معتدل اور روشن خیال افراد کو منتخب کرنے کا درس دے رہی ہے لیکن مقابلے کے وقت خود ان کا امیدوار بھی میدان چھوڑ کر چلا گیا۔

اس کے مقابلے میں صوبے میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی آغاز سے ہی کوشش تھی کہ ان کا امیدوار بِلامقابلہ منتخب ہو تو بہتر ہے جس میں وہ کامیاب رہی۔

سینیٹ کے نومنتخب رکن ایم ایم اے کے اکیاون سالہ قاری محمد عبداللہ ہیں۔ ان کا تعلق صوبے کے جنوبی ضلع کلاچی سے ہے لیکن وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خان درانی کے آبائی علاقے بنوں میں مستقل بنیاد پر قیام پزیر ہیں۔

اس انتخاب سے خود وزیر اعلیٰ اور جعمیت علماءِ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو اپنے حلقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

اکوڑہ خٹک کے معروف دارالعلوم حقانیہ جیسے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ آجکل خود بھی بنوں کے ایک مدرسے میں استاد کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

فیورٹ ایم ایم اے کے قاری محمد عبداللہ کے علاوہ دیگر امیدواروں میں ایم ایم اے کے ہی ناراض رکن پیر محمد خان، مسلم لیگ کی خاتون رکن نگہت اورکزئی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سید قمر عباس اور نجم الدین شامل تھے۔

اس انتخاب میں کامیابی پر ایم ایم اے یقیناً خوش ہے اور اسی خوشی کا اظہار سینیئر صوبائی وزیر سراج الحق نے اس بیان میں کیا ہے کہ ان کا اگلا ہدف متنازعہ حسبہ بل کی سرحد اسمبلی سے متفقہ منظوری ہے۔ یہ شاید اس اتحاد کے لیے اتنا آسان نہ ہو کیونکہ یہ بل پہلے ہی شدید مخالفت کی وجہ سے طویل التوا کا شکار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد