سیاسی اجتماعات، پابندی اٹھائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی اسمبلی نے جمعہ کے روز اکثریت سے منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کی واپسی پر کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی اجتماعات پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے پارلیمانی رہنما عبدالاکبر خان کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرار داد کی صوبے میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی نے حمایت کی جبکہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ نے اس کی مخالفت کی۔ ایوان نے معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے عبدالاکبر خان کو قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی۔ قرار داد پیش کرتے ہوئے انہوں نے سندھ اور پنجاب میں کارکنوں کی گرفتاری اور چھاپوں، ریل گاڑی سروس معطل کرنے کی مذمت کی اور اسے جمہوریت کی نفی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے ایم ایم اے کی قیادت کی جانب سے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں آصف زرداری کو پشاور آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے انور کمال خان، ایم ایم اے کے صوبائی وزیر ملک ظفر اعظم اور مولانا ادریس نے بھی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ انہوں نے اس قرار داد میں گوجرانولہ میں میراتھن کی مخالفت کرنے پر ایم ایم اے کے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ س تجویز کی پی پی پی پی کے ارکان نے مخالفت کی اور اس کے لیے الگ سے قرار داد پیش کرنے کے لیے کہا۔ کافی بحث کے بعد ایوان نے ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کے گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل کر دیا۔ بعد میں قرار داد کی حمایت کرنے والے کئی اراکین نے ان گرفتاریوں کے خلاف بطور احتجاج علامتی واک آوٹ بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||