صوبہ سرحد، ضمنی انتحابات ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد سے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی خالی نشست کے لیے انتخاب جو بدھ کو سرحد اسمبلی میں ہونا تھا ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ نشست مسلم لیگ کے کمانڈر خلیل الرحمان کی بطور گورنر سرحد تقرری کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے کے مطابق اس تاخیر کی وجہ انتخاب کے لیے مقرر ریٹرنگ آفیسر عبداللہ خان کی علالت بتائی گئی ہے۔ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ اب یہ انتخاب انیس اپریل کو ہوگا۔ اس ایک نشست کے لیے اس وقت میدان میں پانچ امیدوار ہیں۔ ان میں فیورٹ ایم ایم اے کے قاری محمد عبداللہ ہیں جبکہ دیگر امیدواروں میں ایم ایم اے کے ہی ناراض رکن پیر محمد خان، مسلم لیگ کی خاتون رکن نکہت اورکزئی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سید قمر عباس اور نجم الدین شامل ہیں۔ صوبے میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کا خیال ہے کہ وہ یہ نشست باآسانی جیت جائے گی لیکن اس جیت سے پہلے اسے ایک چھوٹی سی ہار کا سامنا اپنے ہی ایک جماعت اسلامی کے رکن کی رکنیت ختم کرکے کرنا پڑا۔ اتحاد کے فیصلے کی پروا نہ کرتے ہوئے اس مقابلے کے لیے میدان میں اترنے پر جماعت اسلامی نے پیر محمد خان کو جماعت سے نکال دیا ہے۔ انہیں گزشتہ دنوں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جماعت کی جانب سے جاری ہوا لیکن انہوں نے اس کا جواب مقررہ چوبیس گھنٹوں میں نہ دیا۔ حزب اقتدار کے ان اختلافات کی طرح حزب اختلاف بھی منقسم نظر آئی۔ ایک امیدوار ہونے کی صورت میں شاید اپوزیشن کوئی اچھا تاثر دینے میں کامیاب ہوتی لیکن تین امیدوارں کی موجودگی میں ناصرف ان کے ووٹ تقسیم ہونگے بلکہ ان کے متحدہ حزب اختلاف کا خواب بھی خواب رہے گا۔ ووٹوں کی حتمی صورت تو کل ووٹنگ کے خاتمے پر سامنے آسکے گی لیکن اس انتخاب نے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضع کر دی ہے کہ پاکستانی انتخابات میں ساتھی کے مخالف اور مخالف کے دوست بننے کی روش اب بھی موجود ہے۔ ایم ایم اے میں اختلاف سے پہلے ہی خود حکمراں مسلم لیگ کے اندر خلیل الرحمان کی تقرری پر دبی دبی مخالفت سامنے آئی۔ پارٹی کے مرکزی سکریٹری جنرل سلیم سیف اللہ خان نے ان تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ اس تعیناتی سے حکمراں جماعت ایوان بالا میں ایک نشست سے ہاتھ کھو بیٹھے گی۔ اتحاد کی پالیسی کے خلاف پیر محمد خان کا امیدوار بننا کوئی تعجب انگیز بھی نہیں تھا۔ وہ پہلے دن سے ایم ایم اے کے لیے اپنے بیانات اور اقدامات کی وجہ سے مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں۔ وہ پینتیس برسوں سے جمیعت اور جماعت سے منسلک ہیں۔ لیکن ان کے اس کردار کی وجہ آج تک واضع نہ ہوسکی۔ کچھ لوگوں کے خیال میں وہ وزارت نہ ملنے پر وہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد حیثیت سے یہ انتخاب لڑنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ وہ کم از کم تین ووٹ تو ضرور لینے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک اپنا، ایک ناراض جمعیت علما اسلام (س) کے اکرام اللہ شاہد اور تیسرا سابق وزیر اعلی سرحد عنایت اللہ گنڈاپور جنہوں نے انہیں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف بھی کسی ایک امیدوار پر متفق نہیں ہوئی جو اس کی حتمی کارکردگی پر یقینا برا اثر ڈالے گی۔ اس وقت سرحد اسمبلی میں ایک سو چوبیس ارکان میں سے مجلس عمل کے ارکان کی تعداد ستر ہے۔ پیر محمد خان کی وجہ سے شاید ایک دو ووٹ سرکاری امیدوار کو نہ ملیں لیکن اس کی جگہ خیال کیا جا رہا ہے کہ حزب اختلاف کے چند ارکان قاری عبداللہ کو خیرسگالی کے طور پر اور حکومت سے اپنے کام نکلوانے کے لیے ووٹ دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||