گورنر افتخار حیسن کا گریز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے گورنر سید افتخار حسین شاہ کے مستعفی ہونے کی خبر کسی سرکاری تصدیق کے بغیر آج دوسرے روز بھی گرم رہی۔ پشاور میں آج ایک تقریب کے بعد گورنر نے اس موضوع پر صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ گورنر سرحد کی تبدیلی کی خبر کے سامنے آئے ہوئے دوسرے روز بھی نہ تو اسلام آباد اور نہ ہی پشاور میں اس بارے میں کوئی سرکاری موقف اب تک سامنے آیا ہے۔ گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے اجتنناب کر رہے ہیں اور یہیں کچھ انہیں نے آج بھی کیا۔ اکادمی ادبیات کی ایک تقریب کے بعد صحافیوں نے ان سے استعفے کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس سے انکار کرتے ہوئے گاڑی کی جانب دوڑ لگائی دی۔ سوالوں کے جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ موسم اچھا ہے۔ پاکستان اخباروں میں گورنر کی تبدیلی کی خبروں کو نمایاں طور ہر شائع کیا گیا ہے۔ان خبروں کے مطابق سینٹر کمانڈر (ریٹائرڈ) خلیل الرحمان صدر پرویز مشرف کے وسطی ایشیا کے دورہ کے بعد حلف اٹھائیں گے۔ تاہم موجودہ گورنر سید افتخار حسین شاہ سے کل باجوڑ میں صحافیوں سے بات چیت سے منصوب یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے کسی استعفے سے انکار کیا ہے۔ پشاور میں صحافتی حلقوں میں ان حالات کی وجہ سے کافی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ایک جانب تو ذرائع ابلاغ اپنے ذرائع کے حوالے سے گورنر کے جانے کی خبریں شائع کر رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں مسلسل چپ سادھی ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||