BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2003, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی عمائدین کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

اورکزئی ایجنسی
قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے لیے سیاسی ہمدردی بھی پائی جاتی ہے۔

حکومت پاکستان نے چند روز قبل افغانستان کا دورہ کرکے مراعات طلب کرنے والے قبائلی عمائدین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کہ دو قبائلی رہنماؤں کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

یہ عمائدین ان قبائلی علاقوں میں ملک کہلاتے ہیں۔ انتظامیہ نے جن دو ملکوں کو گرفتار کیا ہے ان میں اورکزئی قبیلے شیخان کے ملک سید میر اور عیسیٰ خیل قبیلے کے ملک حاجی فضل الرحمٰن شامل ہیں۔ دونوں کو کوہاٹ جیل میں رکھا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ یعنی انیس اکتوبر کو تین قبائلی علاقوں، خیبر کرم اور اورکزئی ایجنسیز کے ایک وفد نے افغانستان کا خفیہ دورہ کیا۔ وفد نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان صوبے ننگر ہار کہ گورنر حاجی دین محمد اور سرحدی امور کے اگغان وزیر سے ملاقاتیں کیں۔

اس دورے کا بظاہر مقصد پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت کی جانب سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی سے پیدا شدہ صورتحال اور کسی دوسری ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل افغان حکومت کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔

وفد کے ایک ترجمان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان حکومت نے ان کے دورے کے موقع پر ان کی غیر معمولی خاطر مدارات اور مہمان نوازی کی اور انہیں ہر سیم کے تعاون کا یقین دلایا۔

ترجمان کے مطابق ننگر ہار کہ گورنر حاجی دین محمد نے ملاقات میں کہا کہ قبائلیوں کو سرحد پار کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی اور انہیں افغانستان کے ساتھ ہر قسم کی تجارت کی بھی کھلی آزادی ہوگی۔

وفد نے تقریباً دس دن افغانستان میں قیام کیا اور واہسی پر طورخم سرحد کی بجائے غیر معروف راستوں سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

ترجمان کے مطابق وفد کے ارکان کو پاکستان واپس پہنچتے ہی قبائلی علاقے کی انتظامیہ ’پولیٹکل انتظامیہ‘ کی جانب سے نوٹس ملنے لگے لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ دی مگر بعد میں دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

دوسری جانب پولیٹکل انتطامیہ اورکزئی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ملکوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مزی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

انتظامی اہلکار کا کہنا ہے کہ جو ملک حضرات حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر افغانستان گئے اور افغان حکام سے مراعات حاصل کیں ان کا ضرور احتساب ہوگا۔ انہوں نہ کہا کہ اگر ان قبائلی عمائدین پر ملک کے مفادات کے خلاف کام کرنے الزامات ثابت ہوگئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سلسلے میں انتظامی افسر کا کہنا ہے کہ ماموں زئی قبیلے کے ایک سرکردہ رہنما کی قیادت میں وفد کے ارکان نے افغانستان کا دورہ کیا لیکن کوشش کے باوجود انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

وفد کے ترجمان نے پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے وفد کے ارکان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ اگر حکومت نے ان کے خلاف چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجا صرف اورکزئی ایجنسی تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ دیگر قبائل بھی اس میں شریک ہوجائیں گے۔

وفد کے ارکان نے دورۂ افغانستان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت نہ تو قبائلیوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اور نہ ہی ان کو پوست کی فصل کاشت کرنے دیتی ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جلال آباد کے ریڈیو نے افغانستان کا دورہ کرنے والے ان عمائدین میں سے دو کے انٹرویو بھی نشر کئے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیرستان سے بھی ایک قبائلی وفد نے پڑوسی ملک کا دورہ کیا اور اعلیٰ افغان حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اس سلسلے میں جب اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام کلایہ میں ایک قبائلی مظفر حسین سے اس دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی کے بعد سے یہاں پر بھی لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

مظفر حیسن نے کہا کہ اس قبائلی علاقے میں یہ بات عام ہے کہ یہ عمائدین افغان حکام سے مالی مراعات حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کا انفرادی فیصلہ ہے۔

ہنگو کے ایک مقامی صحافی عبدالصبور خان نے بتایا کہ افغانستان کا دورہ کرنے والے قبائلیوں میں اورکزئی کے علاوہ کرم اور خیبر ایجنسی کے قبائلی رہنما بھی شامل تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد