ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان |  |
 |  مولانا نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی |
پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ایم ایم اے کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری کو پشاور ائیر پورٹ پر اترنے کی پیشکش کی ہے تاکہ ان کی پارٹی وطن واپسی پر ان کا جیسا چاہے استقبال کر سکے۔ جمعرات کے روز جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ وہ یہ پیشکش خیر سگالی کے جذبے کے تحت کر رہے ہیں کیونکہ پنجاب حکومت آصف زرداری کے لاہور میں مجوزہ استقبال میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انہوں نے آصف زرداری کو دبئی میں ٹیلی فون بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل انہوں نے مسلم لیگی رہنما میاں شہباز شریف کو بھی ایسی ہی پیشکش کی تھی جب انہوں نے پاکستان واپس آنے کی ٹھانی تھی اور حکومت نےانہیں لاہور ائیر پورٹ سے ہی سعودی عرب روانہ کردیا تھا۔ بعد میں اخبار نویسوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوۓ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے لیے شاید اس موقع پر ان کی پیشکش قبول کرنا ممکن نہ ہو کیونکہ پیپلز پارٹی ان کے لاہور کے استقبال کے لیے انتظامات مکمل کر چکی ہے۔
 |  زرداری کے استقبال کے لیے لاہور میں خوب تیاری کی جا رہی ہے |
انہوں نے زرداری کے استقبال میں مصروف پی پی پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوۓ اس عمل کو جمہوریت کے منافی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپوزیشن کے ساتھ معاملات کو دور اندیشی اور روداری کے ساتھ حل کریں نا کہ طاقت کے بل بوتے پر۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں فوج کا حکومت کرنے یا اس میں شامل ہونے کے حوالے سے کوئی کردار نہیں اور اگر فوج ایسا چاہتی ہے تو پھر ایک نیا آئین تشکیل دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے نہیں بلکہ صدر مشرف انتہا پسند ہیں جو کہ ایک سویلین عہدے پر وردی سمیت براجمان رہنے پر بضد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ |