ہڑتالوں میں پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قوم پرستوں کے اتحاد پونم کی اپیل پر کل جمعرات کے روز تین چھوٹے صوبوں میں ہڑتال کی گئی جبکہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جمعہ کے روز ملک بھر میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ پیپلز پارٹی ان دونوں ہڑتالوں میں شریک نہیں ہے۔ اگرچہ جن مطالبات پر یہ ہڑتالیں کی جا رہی ہیں پیپلز پارٹی ان مطالبات کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ پونم نے کالا باغ ڈیم اور تھل کینال کی تعمیر، بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف اور صوبائی خود مختاری کے حصول کے لیے ہڑتال کی اپیل کی تھی جس کا عوام کی جانب سے اسے موثر جواب ملا ہے۔ پیپلز پارٹی بھی کالاباغ ڈیم اور گریٹر تھل کینال کی مخالفت کرتی رہی ہے اور سندھ میں ان دو متنازع منصوبوں کے خلاف برسرپیکار اتحادوں یعنی انیٹی گریٹر تھل کینال کمیٹی اور واٹر کمیٹی میں قوم پرست جماعتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ پونم کے یہ مطالبات خاص طور پر سندھ میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور سندھ میں سیاست کرنے والی ہر پارٹی کو ان مطالبات کے بارے میں سندھ کے موقف کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ایم ایم اے جنرل پرویز مشرف کی وردی کے خلاف ہڑتال کر رہی ہے اور فوجی حکومت کا خاتمہ پیپلز پارٹی کا بھی مطالبہ ہے اور وہ اس کے لیے جدوجہد بھی کرتی رہی ہے۔ ملک کے ایک اور سیاسی اتحاد اے آرڈی نےاگرچہ صدر کی فوجی وردی کے خلاف ایم ایم اے کے احتجاج میں شریک نہ ہونے فیصلہ کیا ہے تاہم اس اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کے بعد سب سے بڑی جماعت نواز لیگ نے جمعہ کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یوں پیپلز پارٹی ان دونوں ہڑتالوں سے لاتعلق رہی۔ اور یہ احتجاج پیپلز پارٹی کی شمولیت کے بغیر بھی خاصے کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی نے قوم پرست جماعتوں کے ساتھ جدوجہد نہ کی ہو۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بنظیر بھٹو اور عوامی نیشنل پارٹی نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف ملکر جدوجہد کی تھی۔ تب بینظیر بھٹو کی سربراہی میں سندھ کے قوم پرستوں نے سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر دھرنا دیا تھا اور اٹک پل پر ولی خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے کارکنان جمع ہوئے تھے۔ مبصرین آصف زرداری کی رہائی، پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے بات چیت کی تصدیق، آصف زرداری کی وطن واپسی کا پروگرام اور ان کے شایان شان استقبال کی تیاریوں کی کڑیوں کو ایک ساتھ جوڑ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت سے قربت کے بغیر ممکن نہیں- صرف اتنا ہی نہیں جنرل پرویز مشرف کی امریکہ کے بارے میں پالیسی کی بھی بینظیر بھٹو حامی ہیں۔ گزشتہ روز بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے بھارت کے دورے کے دوران راجستھان میں کشمیر اور کھوکھراپار بارڈر کھولنے کے حکومتی اقدامات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ملک کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پی پی کی اس لاتعلقی نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی ایک سوالات پیدا کردیے ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیاں ڈیل کی افواہوں میں واقعی صداقت ہے کہ وہ بنیادی مطالبات کی جدوجہد سے دور ہو کر بیٹھ گئی ہے؟ کیا پیپلز پارٹی واقعی جنرل پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ بن جائےگی؟ یا یہ کہ اپنا جہموری کردار برقرار رکھتے ہوئے عوام کی صفوں میں پہنچ کر وہ قائدانہ کردار ادا کرے گی جس کی لوگ اس سے توقع رکھتے ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||