پیپلزپارٹی کارکن زیرِ حراست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ سولہ اپریل کو پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے استقبالیہ جلوس کو روکنے کے لیے حکومت نے لاہور سے منگل کی رات تک اس کے پچاس سے زیادہ کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ پیپلز پارٹی کےمرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات الطاف قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں پارٹی کے گلی محلے کی تنظیموں کے عہدیدار اور مقامی کونسلرز شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی کے کئی رہنماؤں کے گھروں پر پولیس نے چھاپے مارے لیکن وہ انہیں گرفتار نہیں کرسکی جن میں ارکان صوبائی اسمبلی سمیع اللہ اور رانا آفتاب شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے بعض رہنماوں کے گھروں کے باہر پولیس تعینات ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف رات گئے تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم لاہور پولیس نے اب تک کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ بدھ کی صبح لاہور میں پیپلزپارٹی کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز اور پنجاب اسمبلی ارکان اور پنجاب کی سینٹرل کمیٹی کے ارکان کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں حکومت کے رویہ کے پیش نطر سولہ اپریل کو آصف زرداری کے استقبال کے لیے نیا لائحہ عمل بنایاجائے گا۔ دوسری طرف پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی پارٹی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور آصف زرداری کا لاہور ائرپورٹ پر استقبال کیاجائے گا۔انہوں نے پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی سے کہا کہ وہ اتنا ظلم کریں جتنا خود بھی بعد میں برداشت کرسکیں۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے سولہ اپریل کو دبئی سے آنے والے آصف زرداری کو لاہور ائرپورٹ سے جلوس کی شکل میں داتا گنج بخش کےمزار پر لے جانے کا پروگرام بنایا تھا اور وہ داتا صاحب کے مزار کے قریب ایک جلسہ سے خطاب کرتے۔تاہم حکومت نے پنجاب بھر میں جلسے جلوسوں کے انعقاد پر پابندی عائد کردی اور پیپلز پارٹی کو آصف زرداری کے لیے استقبالیہ جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||