BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 December, 2003, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی کا جلسہ اغوا ہو گیا

کھر
پی پی پی پی کے لوگ کھر کو حکومت کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور کھر خود کو پی پی پی کا کارکن اور بھٹو کا شاگرد

مینار پاکستان کے ساۓ میں، پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے سلسلہ میں ہونے والے ورکرز کنونشن میں سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے بانی رہنماء غلام مصطفیٰ کھر کی اچانک آمد نے جلسہ میں کھلبلی مچا دی۔

ان کی آمد اور موجودگی کے دوران یہ واضح طور پر نظر آیا کہ جلسہ میں شریک عوام ان کی بات سننا چاہتے تھے جبکہ بیشتر رہنماؤں کو ان کی آمد اور موجودگی ناگوار گزری۔

پیپلز پارٹی کے قیام کے چھتیس سال پورے ہونے پر منعقد ہونے والا یہ جلسہ ،موچی دروازہ میں حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے مینار پاکستان کے میدان میں منعقد کیا گیا۔

اس جلسہ(ورکرز کنونشن) میں غلام مصطفیٰ کھر کی آمد کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا۔ وہ جلسہ شروع ہونے کے چند لمحوں بعد ہی اچانک پنڈال کے اندر سے نمودار ہوئے۔ان کےارد گرد دو درجن سے زائد کارکن تھے جو نعرے لگا رہے تھے:

جلسے میں کھر کی آمد
واضح طور پر نظر آیا کہ جلسہ میں شریک عوام کھر کی بات سننا چاہتے ہیں جبکہ بیشتر رہنماؤں کے لیے ان کی آمد اور موجودگی ناگوار تھی

’جدوں کھر آۓ گا لگ پتا جاۓگا‘

وہ سٹیج پر چڑھنے لگے تو سٹیج کے منتظم کارکنوں نے انہیں روکنےکی تھوڑی بہت مزاحمت کی کوشش کی لیکن ان کے ساتھ آنے والے کارکنوں کے سامنے ان کی نہ چل سکی۔

وہ سٹیج پر پنڈال کے راستے داخل ہونے واحد رہنما تھے ۔دیگر تمام رہنماء عقبی جانب سے آئے تھے ۔ وہ جب سٹیج پر پہنچے تو وہ واحد رہنما تھے جن کا عوام نے کھڑے ہوکر سب سے زیادہ دیر تک استقبال کیا۔

ان کی شخصیت جلسہ کے دوران چھائی رہی اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر کے دوران غلام مصطفیٰ کھر کی تقریر کےمطالبے کے لیے نعرے لگتے رہے۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم اور پنجاب کے صدر قاسم ضیاء کی تقاریر کے دوران بھی یہی ہلڑ بازی جاری رہی اور ان سمیت کوئی بھی رہنماء جم کر تقریر نہیں کر پایا۔

وقفہ وقفہ سے غلام مصطفیٰ کھر کے نعرے لگنے شروع ہوجاتے اور جوابی نعرے بے نظیر زندہ باد کےلگتے۔

نعروں کا مقابلہ
وقفہ وقفہ سے غلام مصطفیٰ کھر کے لیے نعرے لگنے شروع ہوجاتے جس کے جواب میں بے نظیر زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے

ایک کے بعد ایک مقرر تقرریر کرتا رہا لیکن مصطفیٰ کھر کی باری آئی نہ سٹیج سے کسی نے تقریر کہےلیے انکا نام پکارا۔

ہلڑ بازی میں قاسم ضیاء کو جلسہ کا صدر اور آخری مقرر قرار دیکر غلام مصطفیٰ کھر کی تقریر کے بغیر ہی منتظمین نے جلسہ کے اختتام کا اعلان کر دیا۔لائیٹیں بجھا دی گئیں۔مائیکرو فون اور سپیکر بند کر دیئےگئے۔شرکاء جلسہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اسی اثناءمیں غلام مصطفیٰ کھر خود ہی تقریر کے لیے کھڑے ہوگئے۔

شرکاء کا بڑا حصہ تو پنڈال چھوڑ گیا تھا لیکن پھر بھی شرکاءکی ایک تعداد سٹیج کے سامنے کھڑی ہو کر ان کی تقریر سننے لگی۔

غلام مصطفیٰ کھر نے اندھیرے میں بغیر مائک کی اپنی تقریر میں کسی کا نام لیے بغیر پاکستان میں موجود پیپلز پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا ،انہیں چوکیدار قرار دیا اور کہا کہ یہ لوگ ان کے (بے نظیر کے ساتھ) ایک ناشتہ کی مار ہیں۔

اندھیرے میں تقریر
غلام مصطفیٰ کھر نے اندھیرے میں بغیر مائک کے تقریر کی اور کسی کا نام لیے بغیر پاکستان میں موجود پیپلز پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہی وہ لوگ ہیں جو بے نظیر کو واپس نہیں آنے دیتے‘

انہوں نے کہا کہ’ وہ بے نظیر کو وطن واپس لا کر دکھائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کےشاگرد ہیں اور انہیں ان کی قبر سے بھی پیار ہے۔انہوں نے تقریر کے دوران بے نظیر بھٹوسے اپنی ملاقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ بے نظیر نے انہیں روٹی کھلائی تھی۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ فوج کے ساتھ شرکت اقتدار کا فارمولا انہوں نے خود پیش کیا تھا اور اس میں بے نظیر کی رضا مندی شامل نہیں تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی قیادت انہیں پیپلز پارٹی کا حصہ نہیں مانتی جبکہ غلام مصطفیٰ کھر کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے کارکن ہیں۔

غلام مصطفیٰ کھر سیاست کی طویل گوشہ نشینی کے بعد چند ہفتہ قبل اچانک اس وقت قومی سیاست میں نمودار ہوئے جب انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فوج اور سیاست دانوں کے اشتراک پر مبنی حکومت بنائے جانے کی تجویز پیش کی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد