’ہم پر امن استقبال کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پیپلزپارٹی پارلیمینٹریئن کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ حکومت پی پی پی کی طرف سے لاہور میں آصف زرداری کے استقبال کے پروگرام کو خراب کرنے کے لیے گزشتہ دو روز میں پیپلز پارٹی کے دو سو پچاس کارکنوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ دریں اثناء اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار نے کہا ہے کہ پی پی پی کے سید نوید قمر قومی اسمبلی میں اسی موضوع پر نقطۂ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں کی بند کمرے میں بھی اجلاس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔ اسمبلی میں اے آر ڈی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس مسئلے پر واک آؤٹ کیا۔ متحدہ مجلس عمل نے بھی گجرانوالہ سے اپنے رکن اسمبلی کو اسمبلی کے اجلاس میں نہ لانے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ بدھ کو لاہور میں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز، پنجاب کے ارکان صوبائی اسمبلی، پنجاب کی سینٹرل کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے ارکان کا اجلاس ہوا جس کے اختتام پر مخدوم امین فہیم نے صحافیوں سے کہا کہ ان کی پارٹی نے حکومت سے اجازت نہیں لی بلکہ اسے استقبال کے پروگرام سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بتایا گیا تھا کہ ان کا پروگرام پُرامن ہوگا جس آصف زرداری کو ہوائی اڈے سے داتا دربار لے جایا گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پُرامن پروگرام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے لیکن بات چیت باوقار اصولوں پر ہوتی ہے، لاٹھی اور ڈنڈے کے زور پر مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حال ہی میں چودھری شجاعت حسین بیرون ملک سے واپس آئے تھے تو لاہور میں ان کے استقبال کے لیے جلوس نکالا گیا تھا اور ایم ایم اے نے ملین مارچ کے جلوس نکالے تھے تو آصف زرداری کے استقبالی جلوس پر پابندی کیوں؟ دوسری طرف پنجاب حکومت نے صوبہ میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ میں ایک ماہ کی توسیع کردی ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں جلوس نکالنے پر پابندی عائد ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سے آصف زرداری کے استقبال کا جلوس نکالنے کی اجازت نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی منتخب حکومت کو چیلنج کرے اور یہ کہے کہ اس نے حکومت سے اجازت نہیں لینی صرف اسے اطلاع دینی ہے تو قانون اس کے خلاف حرکت میں آئے گا اور صوبہ میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ کسی کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے جائے گی اور کوئی جلوس نہیں نکلے گا۔ لاہور میں بدھ کو بھی پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مارتی رہی اور صبح کے وقت لاہور کے دیہی علاقہ میں دو مقامی رہنماؤں ارشد گھرکی اور خالد گھرکی کے گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن پولیس انہیں گرفتار نہیں کر سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||