زرداری کا استقبال ہوگا کہ نہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے لاہور میں استقبال کے جلوس کا اعلان انتظامیہ اور پیلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں کے درمیان تنازعہ کی وجہ بنا ہوا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے پیپلز پارٹی کو کہا ہے کہ لاہور میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے اس لیے استقبالی جلوس کی اجازت نہیں ملے گی جبکہ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے ہر صورت استقبالی جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آصف علی زرداری ان دونوں دبئی میں ہیں اور انہوں نے سولہ اپریل کو پاکستان لوٹنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ براہ راست لاہور پہنچیں گے۔ حکومت کی طرف سے استقبال کی اجازت نہ دیئے جانے پر پارٹی نے نیا لائحہ عمل بنانے کے لیے تیرہ اپریل کو لاہور میں اپنے تمام ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز اور ارکان صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلالیا ہے ۔ پارٹی کے ترجمان کے مطابق پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں بھی ان صوبوں کے ارکان صوبائی اسمبلی اور صوبوں کے ارکان سینٹرل کمیٹی ایسے ہی اجلاس منعقد کریں گے۔ پیپلزپارٹی کے مقامی کارکن کئی روز سے ان کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین پنجاب کے صدر قاسم ضیا کا کہنا ہے کہ انہیں کل لاہور کے سینیئر سپرانٹنڈنٹ پولیس نے فون کرکے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ریلی نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پیر کو لاہور میں اس معاملے پر غور کے لیے پیپلز پارٹی کی آصف زرداری استقبالی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آصف علی زرداری کے استقبال کی اجازت نہ دی گئی تو اس سے ملک میں سیاسی منافرت میں اضافہ ہوگا اور جہموری عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی جلوس کے بارے میں انتظامیہ سے بات چیت کرنے کو تیار ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ یہ جلوس پرامن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کا استقبالی جلوس تو ہر صورت نکلے گا وہ یا کوئی اوراسے نہیں روک سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پیپلزپارٹی کو یہ کہہ کر جلسہ جلوس سے منع کیا جاتا ہے کہ صوبے میں پہلے سے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے اور دوسری طرف صدر پرویز مشرف اور وزیراعلیٰ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ طرز عمل امتیازی سلوک پر مبنی ہے جس سے سیاسی فضا خراب ہوگی ،منافرت بڑھے گی اور جمہوری عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے۔ ان کے بقول ایک طرف تو سرکاری خرچے پر سیاسی جلسے ہو رہے ہیں اور دوسری طرف پیپلز پارٹی کے لیے پابندی ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے مقامی رہنماؤں نے اعلان کر رکھا ہے کہ سولہ اپریل کو چاروں صوبوں اور کشمیر سے کارکن اور عوام لاہور میں آصف زرداری کے استقبال کے لیے اکٹھے ہونگے اور صرف سندھ سے چار ٹرینیں استقبالیوں کو لیکر لاہور آئیں گی۔ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کےاستقبال کے موقع پر عوامی طاقت کے اظہار کرنے سے بےنظیر بھٹو کی وطن واپسی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ تاہم پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا گیا کہ صوبہ بھر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے اور کسی کو جلوس کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ہوائی اڈے کے باہر جلسہ بھی نہیں کیا جاسکتا بلکہ صرف مینار پاکستان پر لاہور کی ضلعی حکومت کی اجازت سے جلسہ کیا جاسکتا ہے۔ لاہور کے ناظم میاں عامر محمود کا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب حکومت کی طرف سے اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی ہے۔ آج قصور میں صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلی پرویز الٰہی نے آصف زرداری کے خلاف خاصی سخت زبان استعمال کی اور کہا کہ ملک سے باہر بیٹھے سیاستدان ملک کو بدنام کررہے ہیں اور اپنے ’ٹیسٹرز‘ بھیجتے رہتے ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ پچھلے سال نون لیگ نے اپنا ٹیسٹر بھیجا تھا جسے ہم نے بڑے اچھے انداز میں بُک کردیا اور اب ایک اور ٹیسٹر آرہا ہے اور اس کا بھی یہی حال ہوگا۔ جہانگیر بدر نے اخباری کانفرنس کے دوران کہا کہ انکی پارٹی ملک میں ایسا سیاسی ماحول دیکھنا چاہتی ہے جس میں سب کے لیے جگہ موجود ہو۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آصف زرداری کے استقبال کے بینرز اُتروا دیئے ہیں اور وال چاکنگ پر سفیدی پھروادی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے زیر غور دو راستے ہیں۔ ایک یا تو تمام ارکان پارلیمینٹ اسمبلیوں سے استعفی دے دیں اور یا گرفتاریاں دے کر جیلیں بھرو تحریک کا آغاز کردیا جائے۔ سولہ اپریل کو متحدہ مجلس عمل بھی منی میراتھن ریس کے موقع پر اپنے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف گوجرانوالہ سے لاہور تک ایک احتجاجی جلوس لانے کا اعلان کرچکی ہے۔ پیر کو متحدہ مجلس عمل کے مرکزی قائد لیاقت بلوچ نے کہا کہ آصف زرداری کے استقبال کے موقع پر ایم ایم اے اس جلوس کو ملتوی نہیں کرسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||