’جوانی تو جیل میں کٹ گئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی قید کو چار نومبر کو آٹھ برس پورے ہوگئے ہیں۔ آصف علی زرداری کو پانچ نومبر سن چھیانوے کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان ہی کی جماعت کے منتحب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری نے اسمبلیاں توڑ کر بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی تھی۔ جمعرات کے روز آصف علی زرداری کو راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت میں ایک زیرالتواٰ مقدمے میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ انہوں نے آٹھ سال میں کیا کھویا اور کیا پایا تو انہوں نے کہا’آٹھ سالہ قید میں جوانی تو گئی، لیکن سیاسی تدبر، حالات کو سمجھنے کی صلاحیت، اچھے دوست اور بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے،۔ صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹھ برس قید کاٹنے پر انہیں افسوس ہے لیکن رہائی کے لیے وہ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ڈیڑھ درجن کے قریب مقدمات قائم کیے گئے تھے اور زیادہ تر مقدمات میاں نواز شریف کے دور حکومت میں داخل ہوئے تھے۔ آصف زرداری کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے لیکن زرداری جیل سے باہر نہیں نکلے۔ زرداری کی رہائی کے لیے مختلف اوقات میں کئی بار حکومت سے سمجھوتے کے نتیجے میں رہائی کی خبریں بھی شائع ہوتی رہیں لیکن تاحال وہ قیاس آرائیاں ہی ثابت ہوئیں۔ صدر مشرف کے نمائندوں نے جیل میں زرادی سے کئی مواقع پر مذاکرات بھی کیے لیکن معاملات طے نہیں ہوئے۔آصف زرداری کہتے ہیں کہ وہ حکمرانوں سے ڈائیلاگ کریں گے لیکن ڈیل نہیں۔ زرداری کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی گزشتہ سولہ برسوں کی زندگی میں گیارہ برس قید اور پانچ برس اقتدار میں گذارے ہیں۔ وہ جیل میں رہے یا وزیراعظم ہاؤس میں، پروٹوکول کے ساتھ ہی رہے ہیں۔ آصف زردای کہتے ہیں کہ جب صدر مشرف کے نمائندے ان سے مذاکرات کے لیے جیل میں آئے تھے تو انہوں نے ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا تھا کہ ’میرے پروٹوکول کا کیا بنے گا‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ عید کہاں کریں گے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سرکار کا مہمان ہوں جہاں چاہیں گے وہاں عید ہوگی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ بچے عید پر ان سے ملنے نہیں آئیں گے۔ بچوں کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اب وہ بڑے ہوگئے ہیں اور جب بھی ان سے ملنے جیل آتے ہیں اس کے بعد ’ڈسٹرب، ہوجاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں حکومت نے بدعنوانی کی وجہ سے نہیں بلکہ انتقامی سیاسی مقاصد کی خاطر قید کیا ہوا ہے۔جس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ گرفتاری کے ابتدائی دو برسوں تک کسی مقدمے میں سزا نہ ملنے کے بعد ضمانت پر رہائی ان کا قانونی حق تھا جو انہیں نہیں ملا اور ان کے بقول اس دن سے ان کی قید سیاسی بن چکی ہے۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق نائیک کے مطابق ان کے مؤکل کو آٹھ برسوں میں صرف دو مقدمات میں سزا ملی جو اعلیٰ عدالتوں نے کالعدم قرار دے دی اور کچھ مقدمات میں وہ باعزت بری ہوچکے ہیں جبکہ اب بھی سات کے لگ بھگ مقدمات ان کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ ان کے مطابق ایک مقدمے میں غلط سزا دینے پر متعلقہ ٹرائل کورٹ کے ججوں کو ملازمت سے عدالت اعظمیٰ نے برطرف کیا۔ وکیل کے مطابق ’بی ایم ڈبلیو کار کیس، کے علاوہ دیگر تمام مقدمات میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے جبکہ کار کیس میں ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التواٰ ہے۔ آصف زرداری کے وکیل نے کہا کہ جب بھی زرداری کی آخری مقدمے میں ضمانت ہوتی ہے اسی دن حکومت کوئی نیا مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری ظاہر کرتی ہے اور آٹھ برس سے یہ ہی کچھ ہوتا رہا۔ آصف زرداری کے وکیل، سینیٹر فاروق نائیک اور پارٹی رہنماؤں صفدر عباسی اور ناہید خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہ دعویٰ کیا کہ زرداری پاکستان کے پہلے سیاسی قیدی ہیں جنہوں نے مسلسل آٹھ برس قید کاٹی ہے اور وہ ضمیر کے قیدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار آٹھ سو اسی دن زرداری کو جیل میں ہوئے ہیں اور اس دوران انہوں نے سولہ عیدیں بھی جیل میں گذاری ہیں۔ انہون کہا کہ زرداری کی قید کے دوران ان کی والدہ اور کئی قریبی رشتہ دار فوت ہوئے لیکن حکوممت نے انہیں پیرول پر آزاد نہیں کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||