زرداری استقبالیہ: لاہور شہرِپولیس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے جمعرات کو لاہور کے علامہ اقبال ائرپورٹ پر چیک پوسٹیں قائم کر کے آنے جانے والوں کی کڑی نظر رکھ رہی ہے اور ائرپورٹ پر پہلے سے موجود سکیورٹی عملہ کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ ائرپورٹ پر جانے اور آنے والے راستوں پرقائم کی گئی پولیس کی عارضی چوکیوں کا عملہ کسی ایسے شخص کو جس کے پاس کسی پرواز کا ٹکٹ نہ ہو ائرپورٹ کی طرف جانے نہیں دے رہا۔ ایک چوکی پر تعینات ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے ائرپورٹ پر سولہ اپریل کو لاہور پہنچنے والے آصف علی زرداری کے استقبال کے لیے کیمپ لگانا چاہتے تھے جسے روکنے کے لیے پولیس تعینات کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا ایک وفد آج صوبائی سیکرٹری داخلہ وسیم حسن افضل سے ملا اور انہیں اس درحواست کی نقل فراہم کی جو پارٹی نے گزشتہ رات ضلعی حکومت سے زرداری کے استقبالیہ جلوس کی اجازت لینے کے لیے جمع کرائی تھی۔ تاہم سیکرٹری داخلہ نے انہیں بتایا کہ ابھی اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ میں پارٹی کے دو رہنماوں نے دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت استقبالیہ جلوس پر پابندی کے خلاف جو رٹ درخواست دائر کی تھی اسے عدالت کے دفتر نے یہ اعتراض لگا کر واپس کردیا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کی نقل اس کے ساتھ منسلک نہیں۔ تاہم درخواست گزار اعجاز شاہ نے نقل لگار کر یہ رٹ آج دوبارہ دائر کردی۔ دوسری طرف پنجاب بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپےمسلسل تیسرے روز بھی جاری رہے۔ جمعرات کی سہہ پہر پیپلز پارٹی کے میڈیا سینٹر پر پولیس نے چھاپہ مارا جہاں پارٹی کے متعدد ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی جمع تھے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیاء نے کہا کہ ملک بھر سے تقریبا پندرہ ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کو پیپلز پارٹی کے اشتہارات والے سپلیمینٹ یا ضمیمے چھاپنے سے روک دیا گیا ہے جو اظہار رائے کی آئین میں دی گئی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس دروازے توڑ کر اور سیڑھیاں لگا کر کارکنوں کے گھروں میں داخل ہورہی ہے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تاج حیدر نے کہا ہے کہ جنرل مشرف سے زیادہ روشن خیال تو جنرل ضیاالحق تھے جنہوں نے انیس سو چھیاسی میں لاہور ائرپورٹ پر بے نطیر بھٹو کے استقبال کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے پرامن استقبال کا پروگرام بنایا تھا لیکن پنجاب کے وزیراعلی پرویز الٰہی نے گندی زبان استعمال کرکے کارکنوں کو اشتعال دلادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات اب لیڈروں کے ہاتھ سے نکل کر کارکنوں کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے کہا کہ نواب شاہ اور سکھر سے بک کرائی گئی دو خصوصی ٹرینیں ریلوے نے منسوح کردی ہیں اور کراچی سے کارکنوں نے لاہور آنے کے لیے جو خصوصی بوگیاں بک کرائی تھیں وہ بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی کرائے پر لی گئی بسوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کیے جارہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||