اپوزیشن واک آؤٹ، بل منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے قومی اسمبلی سے حزب اختلاف کے واک آؤٹ کے دوران غیرقانونی طور پر املاک پر قبضہ کرنے یا جعلسازی کے ذریعے کسی کی ملکیت ہتھیانے والوں اور بحری فوج کے افسران کو اختیارات کے غلط استعمال کی صورت میں قید کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کرنے کے بارے میں دو بل منظور کرالیے ہیں۔ اس موقع پر حکمران مسلم لیگ کے رکن اسمبلی ایم پی بھنڈارا نے کہا کہ آج پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن ہے کیونکہ ان کے بقول حکومت نے جلد بازی میں قانون سازی کرکے پارلیمان کو انگوٹھا چھاپ بنادیا ہے۔ جمعرات کے روز ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے لاہور میں اراکین اسمبلی کو بند کمرے میں اجلاس میں شرکت سے پولیس کی جانب سے روکنے کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی۔ جس کے جواب میں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے کہا کہ انہیں متعلقہ واقعے کا علم نہیں اور تحریک پر غور ملتوی کیا جائے۔ وزیر کے جواب پر راجہ پرویز اشرف جذباتی ہوگئے اور کہا کہ اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں اور نجی ٹی وی چینل ’بریکنگ نیوز‘ کے طور پر خبریں دے رہے ہیں اور وزیر کو پتہ ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولہ اپریل کو لاہور پہنچنے پر آصف زرداری کا استقبال کرنا ان کا حق ہے اور وہ ہر قیمت پر ایسا کریں گے۔ساتھ ہی انہوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر رکھی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس دوران حزب اختلاف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے اراکین ایوان میں بیٹھے رہے اور مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی خواجہ آصف نے حافظ حسین احمد سے کچھ بات کی اور بعد میں مجلس عمل نے بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر واک آوٹ کیا۔ انہوں نے ساتھ میں جاوید ہاشمی اور اپنے گرفتار رکن اسمبلی قاضی حمیداللہ کو ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ حزب اختلاف کے دونوں اتحادوں کے واک آؤٹ کے دوران حکومت نے ایجنڈے کے مطابق کارروائی چلاتے ہوئے جہاں دو آرڈیننس ایوان یں پیش کیے وہاں دو بل بھی منظور کرائے۔ حکومتی رکن ایم پی بھنڈارا نے اس موقع پر حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے ہوئے عجلت میں قانون سازی کرنے پر جہاں حکومت پر تنقید کی وہاں الزام عائد کیا کہ ایسا کرنے سے حکومت پارلیمان کو انگوٹھا چھاپ بنا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ قوانین کے خلاف ووٹ بھی دیا۔ املاک پر غیرقانونی قبضے ختم کرانے اور جعلسازی کو روکنے کے متعلق منظور کیے گئے بل کے مطابق مقدمہ سیشن کورٹ میں دائر کیا جاسکے گا اور عدالتیں تیس دنوں کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی۔ بصورت دیگر فیصلے میں تاخیر کی وجوہات درج کرنی ہوں گی۔ دوران سماعت اگر عدالت سمجھے کہ متعلقہ املاک کا قبضہ خالی کرانا ضروری ہے تو عبوری حکم کے ذریعے ایسا حکم جاری کرسکتی ہے۔ بل کے مطابق عدالت ملزم کی گرفتاری کا کسی سطح پر بھی حکم جاری کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔ عدالتی حکم پر پولیس مکمل تعاون کرنے اور کسی معاملے کی تفتیش پندرہ دن کے اندر مکمل کرنے کی پولیس پابند ہوگی۔ دریں اثناء حکران جماعت کے ایک رکن مخدوم احمد عالم انور نے صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ ان کے گھر پر پولیس نے بلاجواز چھاپہ مارا ہے۔ وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی پہلے تو مخدوم کو تحریک پیش کرنے سے روکتے رہے لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت سے بات کریں گے اور بعد میں تحریک پر غور ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||