گھر سے ناراضگی نے جان لے لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی کُلاچی تحصیل میں پولیس نے ایک لڑکی کی مشتبہ ہلاکت پر پوسٹ مارٹم کا حکم دیا ہے۔ پولیس کو مبینہ مقتولہ کے بھائیوں پر شبہ ہے۔ صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی طرح جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان بھی عورتوں کے معاملات میں کافی سخت گیر موقف کے حامل لوگوں پر مشتمل ہے۔ عزت کے نام پر قتل کا یہ ممکنہ تازہ واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان کی کلاچی تحصیل کے گرہ اسلم علاقے میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ایک مقامی شخص صالح محمد کی سترہ سالہ بیٹی اس ماہ کے اوائل میں گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی جسے بعد میں اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا اور بغیر کسی پولیس رپورٹ کے دفنا دیا گیا۔ چند روز بعد یہ بات گھر سے باہر نکلی اور علاقے کے لوگوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسے عزت کے نام پر قتل قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان مطالبات اور اخباری خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے دپٹی انسپکٹر جنرل ڈیرہ اسماعیل خان ذولفقاراحمد چیمہ نے متعلقہ تھانے کو مجاز عدالت سے اجازت لے کر اس عورت کی قبر کھود کر لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ مقتولہ کے ایک بھائی کو پولیس پہلے ہی حراست میں لے چکی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ کلاچی کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں پشاور اور راولپنڈی میں دو عورتوں کو جلانے یا ان پر تیزاب پھینکے کے واقعات لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ حقوق انسانی کی تنٌظیموں کی جانب سے اس بارے میں واویلا کے باوجود ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جن کا روکنا حکومت کہتی ہے اس کے لیے بھی مشکل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||