بلدیاتی انتخابات، اقلیتوں کو انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے مختلف ضلعوں میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افرد نے شکایت کی ہے کہ ریٹرننگ افسران عمومی نشستوں پر ان کے کاغذات نامزدگی وصول نہیں کررہے جبکہ حکومت ملک میں مخلوط انتخابات کا قانون رائج کرچکی ہے۔ مقامی انتخابات میں عوام کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارہ عورت فاؤنڈیشن کی انتخابی مہم کے نیشنل کوآرڈینیٹر سلمان عابد نے بی بی سی کو بتایا کہ بہاولنگر، پاکپتن اور مظفر گڑھ سے یہ شکایات ملی ہیں کہ ریٹرننگ افسروں نے اقلیت سے تعلق رکھنےوالے افراد سے یونین کونسلوں کی چھ عمومی نشستوں پر کاغذات نامزدگی لینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ صرف اپنے لیے مخصوص ایک نشست پر امیدوار ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ مقامی انتخابات میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم سے خانیوال اور کچھ اور جگہوں پر اقلیت کے امیدواروں کو یونین کونسلوں کے لیے ناظم اور نائب ناظم کا الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی کیونکہ وہاں پر اکثریتی آبادی اقلیت سے تعلق رکھتی تھی۔ عورت فاونڈیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا اس بارے میں کوئی واضح نوٹیفیکیشن موجود نہیں اس لیے ریٹرننگ افسروں اور امیدواروں دونوں کا الگ الگ موقف ہے۔ ان جگہوں پر ریٹرننگ افسروں کا کہنا ہے کہ اقلیتی افراد مخلوط نظام انتخابات میں ووٹ تو ڈال سکتے ہیں لیکن عمومی نشستوں پر امیدوار نہیں بن سکتے۔ مقامی نظام میں ایک یونین کونسل کی تیرہ نشستیں ہوتی ہیں جن میں سے چھ نشستیں عام مقابلے کے لیے ہیں جبکہ ایک نشست اقلیت کے لیے، دو نشستیں مزدوروں اور کسانوں کے لیے اور چار نشستیں عورتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ عورتوں کی چار نشستوں میں سے دو نشستیں عام عورتوں کے لیے جبکہ دو نشستیں مزدور اور کسان عورتوں کے لیے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے پہلے مرحلہ کے انتخابات ملک کے چون ضلعوں میں اٹھارہ اگست کو ہوں گے جس کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج دوسرا دن ہے اور کل آخری دن ہوگا۔ کئی جگہوں سے جیسے ضلع بہاولنگر سے یہ شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ وہاں کل تک ریٹرننگ افسر کو ووٹر فہرستیں نہیں ملی تھیں جس وجہ سے وہ امیدواروں سےکاغذات نامزدگی وصول نہیں کرسکے کیونکہ کاغذات جمع کرنے کے لیے اسے پہلے ووٹر فہرست میں اس امیدوار کا ووٹر کی حیثیت سے نام دیکھنا پڑتا ہے۔ تاہم منگل کی صبح بہاولنگر میں کاغذات جمع کرنے کا کام شروع ہوگیا تھا۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد نے کہا ہے کہ انتخابات میں امیدواروں کی اہلیت کی شرائط میں یہ بات درج ہے کہ ممنوعہ تنظیموں سے وابستہ افراد الیکشن لڑنے کے اہل نہیں اور ریٹرننگ افسروں کو الیکشن کمیشن نے ایک خط کے ذریعے اس شرط کی یاددہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شرط عام انتخابات کے وقت بھی موجود تھی اور یہ قانون میں کوئی نہیں ترمیم نہیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ جو لوگ مختلف جگہوں سے الیکشن کمیشن کے پاس شکایات لے کر آرہے ہیں ان کے بارے میں متعلقہ صوبوں کے چیف سیکریٹریوں اور آئی جی حضرات سے جواب طلب کیا جاتا ہے۔ موجودہ مقامی انتخابات کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد گزشتہ عام انتخابات کے ووٹروں کی تعداد سے تقریباً پچہتر لاکھ کم ہے۔ موجودہ انتخابات میں ووٹروں کی تعداد چھ کروڑ اڑتیس لاکھ ہے۔ گزشتہ عام انتخابات (سنہ دو ہزار دو) میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سات کروڑ تیرہ لاکھ ستتر ہزار چار سو گیارہ جبکہ گزشتہ مقامی انتخابات (سنہ دو ہزار ایک) میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد چھ کروڑ انیس لاکھ چالیس ہزار آٹھ سو چالیس تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||