BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 July, 2005, 01:23 GMT 06:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلدیاتی انتخابات: سیاسی جماعتیں منقسم

News image
ایم کیو ایم اور تحریکِ انصاف کا موقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں نہ ہوں
پاکستان میں ویسے تو فوج پر اداروں میں مداخلت کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات سیاسی جماعتیں خود ہی فوج کو مداخلت کے لئے کہتی ہیں۔

فوج کو اہم سیاسی معاملات کے حوالے ہی سے سہی، امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے سے بچانے کے بلانے کا مطالبہ آج کل پھر زور پکڑ رہا ہے اور اس کی وجہ بلدیاتی انتخابات ہیں۔

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بیقرار ہیں۔

تاہم کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل ہی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ یہاں مختلف پارٹیوں کے کارکن قتل ہونےلگے ہیں۔

یہاں ایم کیو ایم اور ایم ایم اے ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے کوشاں ہیں۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات فوج میں نگرانی میں کرائے جائیں یا نہیں؟ اس سوال پر سیاسی پارٹیاں بٹی ہوئی ہیں۔

کراچی کے کشیدہ حالات کے پیش نظر سب سے پہلے سنی تحریک نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہونے چاہئیں۔ اس مطالبے کی تائید اشارتاً وفاقی وزیر برائےمذہبی امور اعجازالحق نے یہ کہہ کر کی کہ انتخابات میں فوج کو طلب کرنے کا بھی آپشن زیر غور ہے۔

کراچی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ نے بھی انتخابات کے دوران خونریزی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔اسلام آباد سے واپسی پر انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے فوج کی نگرانی ضروری ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام گذشتہ روز منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں بھی اہم حکومتی شخصیات نے فوج کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیا۔

کانفرنس میں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے یہ موقف پیش کیا کہ فوج کی نگرانی میں انتخابات منعقد کرانے میں کوئی ہرج نہیں۔ مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے بھی شفاف اور آزادانہ بلدیاتی انتخابات کے لئے فوج کی نگرانی پر زور دیا۔

اسٹیبلشمینٹ کے قریب رہنے والے ان دونوں رہنماؤں کی ان باتوں سے سیاسی مبصرین یہ تاثر لے رہے ہیں کہ انتخابات میں فوج کا کردار ضرور متعین کیاگیا ہے۔جس کے لئے راہ ہمور کی جارہی ہے۔

لیکن ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

وفاق اور سندھ میں حکومت کی اہم حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا اس موقف سے شدید اختلاف ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات سے ہی مقبول ہوکر ملکی سیاسی دھارے میں شامل ہوئی تھی۔ وہ ان انتخابات کو بہت زیادہ اہم سمجھتی ہے۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ انتخابات میں فوج طلب کرنی کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی صدر مشرف کو وردی میں قبول کرنےکو تیار نہیں لیکن فوج کی نگرانی میں انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا موقف بھی ایم کیو ایم کے موقف سے ہم آہنگ ہے البتہ وہ فوج کو ان انتخابات سے اس لیے دور دیکھنا پسند کرتے ہیں کہ کہ فوج ایک’ آمر کے تابع ہے لہذا وہ کیسے غیرجانبدارانہ کردار ادا کرسکتی ہے۔‘

پی پی سمجھتی ہے کہ انتخابات انتہائی مشکل حالات میں ہو رہے ہیں۔ سندھ پی پی پی کے صدر سید قائم علی شاھ نے بتایا کہ ’ہم نے انتخابات فوج کی نگرانی میں کرانے یا نہ کروانے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد