BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 July, 2005, 02:06 GMT 07:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلدیاتی انتخابات اور خدشات

صدر مشرف
جنرل مشرف کو درخواست کی گئی تھی کہ منتخب نمائندوں اور ناظمین کا احتساب کیا جائے
پاکستان کے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس حمید ڈوگر نے بالآخر تیس جون کو ملک کے آئندہ بلدیاتی انتخابات کی مرحلہ وار تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔

اس اعلان کے فوراً ہی بعد ملک کے تمام بلدیاتی اداروں میں منتخب نمائندوں کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کردیا گیا اور ان کی جگہ نگراں مقرر کردیئے گئے۔

بلدیاتی انتخابات کا یہ اعلان خود حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے قریباً ڈیڑھ سو ارکان اسمبلی کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھیجی جانے والی اس تحریری درخواست کے باوجود کیا گیا، جس میں صدر جنرل مشرف سے استدعا کی گئی تھی کہ ملک کے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل بلدیاتی اداروں میں موجودہ منتخب نمائندوں اور ناظمین کا احتساب کیا جائے۔

مسلم لیگ (ق) کے ان ڈیڑھ سو ارکان قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اٹک (بالخصوص) جیسے اضلاع سمیت ملک کے کئی اضلاع میں زبردست بدعنوانی کی گئی جس کے نتیجے میں ان اداروں کے اربوں روپے خرد برد ہوگئے۔

ان ارکان اسمبلی کے ان الزامات کو اہمیت اس لیے بھی دی گئی کہ انہوں نے پہلے یہ استدعا اصول و ضوابط کے مطابق حکمراں جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت اور وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی کی تھی۔

مگر جب ان کی اس درخواست کو نظرانداز کردیا گیا تو انہوں نے سیاسی قیادت کو ہی نظر انداز کرتے ہوئے اس معاملے میں براہ راست صدر مشرف سے رجوع کیا۔

قاضی حسین احمد
’ایم کیو ایم کو صدر مشرف کی سرپرستی حاصل ہے‘

بعض حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ایسا ’مجبوراً‘ کیا گیا۔۔ کیونکہ۔۔ بعض اضلاع کے نازظمین کئی سیاسی رہنماؤں کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

بعض حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ان شہری و ضلعی حکومتوں میں بدعنوانی اس قدر اور اس انداز میں کی گئی ہے کہ قومی سطح پر ہونے والی بدعنوانی کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ ان بلدیاتی عہدوں کے اختیارات کی کشش اور ان اداروں میں مختص ترقیاتی رقوم اس قدر خطیر ہیں کہ بعض اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، یہاں تک کہ وفاقی وزراء بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہوکر ان ضلعی انتخابات میں حصہ لینے کی نہ صرف تیاریاں کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے کئی تو کاغذات نامزدگی تک جمع کرانے کی تیاریاں مکمل کیے بیٹھے ہیں۔

اس سلسلے میں صورتحال اس حد تک متاثر رہی کہ خود متعلقہ حکام نہیں جانتے تھے کہ یہ انتخابات پہلے ہوں گے یا ناظمین و منتخب نمائندوں کا احتساب پہلے ہوگا۔

ان انتخابات کی تاریخ کا اعلان پہلے تیئس جون کو ہونا تھا۔ مگر پھر منگل اٹھائیس جون کو اس بلدیاتی نظام کے خالق ادارے قومی تعمیر نو بیورو یا این آر بی کے سربراہ دانیال عزیز نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ انتخابات ستمبر تک کرائے جا سکیں۔

منصفانہ بلدیاتی انتخابات
 بلدیاتی انتخابات اس وقت تک منصفانہ اور عادلانہ بنیادوں پر نہیں ہوسکتے جب تک صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں شامل ایم کیو ایم کو ان حکومتوں سے باہر نہیں کیا جاتا اور سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو، جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی رہا ہے، ان کے عہدے سے فارغ نہیں جاتا
قاضی حسین احمد

مگر جب بعض حلقوں سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ملک کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف خود اپنی ہی متعارف کروائی ہوئی بلدیاتی جمہوریت اور اختیارات میں عوامی نمائندوں کی شرکت کے واحد ذریعے کو ہی متنازعہ بن جانے دیں گے، تو بظاہر انتہائی عجلت میں تیس جون کو ان انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا۔

اس اعلان کے مطابق ملک کے ایک سو دس اضلاع کی چھ ہزار سے زائد یونین کونسلوں کے انتخابات کا عمل جولائی کے وسط میں شروع ہوگا لیکن رائے شماری (ووٹنگ) اگست میں ہوگی۔

ان مرحلہ وار انتخابات کے پہلے مرحلے میں کراچی و پشاور سمیت ستاون اضلاع کی تقریباً تین ہزار یونین کونسلز منتخب کی جائیں گی جن کے لیے رائے شماری اٹھار اگست کو ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں لاہور و کوئٹہ سمیت باقی تریپن اضلاع میں انتخابات ہوں گے جس کے لیے پچیس اگست کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد ستمبر کے مہینے میں مخصوص نشستوں کے لیے بلواسطہ چناؤ کے ساتھ انتخابات کا یہ سلسلہ مکمل ہوگا۔

جسٹس حمید ڈوگر کا کہنا تھا کہ یونین کاؤنسلز کے یہ انتخابات حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کے مطابق ہو رہے ہیں جس میں سیاسی جماعتوں کو امیدوار نامزد کرنے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے قائم کردہ اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے براہ راست کسی نے بھی شکایت نہیں کی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق نہ صرف منتخب اراکین ِ قومی و صوبائی اسمبلی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں بلکہ وزراء کو بھی اس کی اجازت ہوگی البتہ ناظم کے عہدے کا حلف لینے سے قبل ان ارکان کو اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا شیڈول جاری کیئے جانے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ملک کے تمام بلدیاتی ادارے تحلیل ہوجائیں گے اور اس کے بعد صوبائی حکومتوں کو اختیار ہوگا کہ وہ ان اداروں میں نگراں مقرر کریں۔

فاروق ستار
ایم کیو ایم کا دعوی ہے کہ جماعت کے رہنما بات چیت نہیں کرنا چاہتے

اور ہوا بھی یہی۔ اس کا سب سے پہلا مظاہرہ سندھ میں دیکھنے میں آیا جہاں کئی ماہ سے جاری غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ تیس جون ہی کو اس وقت ہوا جب صوبائی حکومت کے محکمۂ بلدیات نے تمام سطحوں پر قائم بلدیاتی اداروں اور منتخب کاؤنسلز کو باضابطہ ان کے خاتمے کا حکم نامہ جاری کیا اور یہ نوٹیفیکیشن فوراً ہی نافذ بھی کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ ارباب رحیم کے مشیر بلدیات وسیم اختر نے بتایا کہ تمام اضلاع میں ضلعی ناظمین سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسرز یا ڈی سی او ان کے عہدوں کا چارج لیں گے۔

اس حکم نامے کے جاری ہونے کے بعد کراچی کی شہری حکومت کے ناظم نعمت اللہ خان سمیت اکثر ضلعی ناظمین فائلیں نمٹاتے یا پھر کاغذات جمع کراتے دکھائی دیئے۔

 ہماری خواہش ہے کہ جماعت اسلامی آل پارٹیز کانفرنس میں آکر گلے شکوے دور کرے اور عوام کو یہ تاثر دے کہ ہم ایک آواز میں ہر سیاسی کارکن کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کریں۔
ڈاکٹر فاروق ستار

ادھر سیاسی حلقوں میں اس سلسلے میں تیاریوں اور تشویش کے اظہار کا سلسلہ کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے جاری ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں پر مبنی ایک اتحاد ’اتحاد برائے بحالئی جمہوریت‘ یا اے آر ڈی کا کہنا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر امیدوار نامزد کرے گی بلکہ اگر مناسب ہوا تو اس معاملے میں حزب اختلاف کی دینی جماعتوں کے ایک اور سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل یا ایم ایم اے کے امیدواروں کے لیے رد و بدل کیا جاسکتا ہے۔

مگر ایم ایم اے اس سلسلے میں اپنی تشویش کا اظہار کئی روز سے کر رہی ہے اور اس معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال کراچی ہی کی دکھائی دیتی ہے۔

کراچی گزشتہ کئی برس سے سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ تشدد کی زد پر رہا ہے اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات قتل و غارتگری کی نظر ہوتی رہی ہیں۔

تیس جون کو سبکدوش ہونے والے کراچی کے ناظم کا تعلق جماعت اسلامی سے رہا ہے اور اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم گزشتہ کئی برس سے کراچی کے بلدیاتی اداروں اور قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی کراچی کے ایک رہنما اسلم مجاہد کا قتل ہوا، جس کے بعد گلشن اقبال کے ایک امام بارگاہ میں خودکش حملے اور اس کے بظاہر ردعمل میں ایک غیر ملکی ریستوراں پر حملے کے جواب میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ ان واقعات کے بعد قتل کی ایک اور واردات میں جامعہ بنوریہ کے شیخ الحدیث مولانا عتیق الرحمٰن اور ان کے ایک ساتھی کا قتل ہوا۔

جماعت اسلامی نے اس تمام واقعات کی ذمہ داری کا الزام متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کا جواب الزام تھا کہ جماعت اسلامی ہی قتل و غارت گری میں ملوث رہی ہے۔

اس سلسلے میں تیس جون کی شب بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایم ایم اے کے سربراہ اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات اس وقت تک منصفانہ اور عادلانہ بنیادوں پر نہیں ہوسکتے جب تک صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں شامل ایم کیو ایم کو ان حکومتوں سے باہر نہیں کیا جاتا اور سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو، جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہی رہا ہے، ان کے عہدے سے فارغ نہیں جاتا۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں کلاشنکوف کلچر اور بارہ مئی کو ضمنی انتخابات کے دن بارہ افراد کی ہلاکت کے بعد ہی یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ ایم کیو ایم کو صدر پرویز مشرف کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔‘

ان الزامات پر ردعمل جاننے کے لیئے جب بی بی سی نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’قاضی حسین احمد اور ان کی جماعت نے تمام طرح کی سازشیں کرلیں کہ کسی طرح بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوجائیں یا موخر ہوجائیں۔ لیکن اب جب کہ الیکشن کمیشن نے اس کا اعلان کردیا ہے تو ان کے ہاتھوں سے طوطے اڑگئے ہیں اور ان کے یہ الزامات شکست خوردہ ذہن کی تخلیق ہیں۔۔۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم واضح کرچکی ہے کہ اس بار بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی اسی لیئے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اور شہر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ’لیکن اب ان کے سارے حربے ناکام ہوچکے ہیں اور ان کو الزام تراشی سے آگے کی کوئی بات کرنی چاہیے۔۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے بلدیاتی انتخابات اور ضابطۂ اخلاق کے عنوان کے تحت کل جماعتی اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے وہ قاضی حسین احمد سے وقت مانگ رہے ہیں ’لیکن وہ دے نہیں رہے‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ آل پارٹیز کانفرنس تین جولائی کو منعقد کی جارہی ہے اور بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس کانفرنس میں شرکت پر آمادگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ ’ہماری خواہش کے جماعت اسلامی بھی وہاں آکر گلے شکوے دور کرے۔‘

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اپنی جگہ مگر بعض معاملات اب بھی غور طلب ہیں۔

تیس جون کو ان انتخابات کے اعلان سے اگرچہ ملک میں جاری قیاس آرائیاں تو ختم ہوگئیں مگر حکمراں جماعت کے ایک حلقے کے علاوہ اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتیں اور ان کے اتحاد مختلف انداز اور زاویوں سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جسے نظر انداز بہرحال نہیں کیا جا سکتا۔

اس سلسلے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ان خدشات کو نظر انداز کیے جانے سے نہ صرف ان انتخابات بلکہ آئندہ منتخب ہوکر آنے والی سیاسی قیادت کی حیثیت بھی متنازعہ رہے گی۔ اور اگر سیاسی جماعتوں کے یہ خدشات دور نہ کیے گئے تو بلدیاتی انتخابات اور ان کے نتائج پر سوالیہ نشان بھی لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد