BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 June, 2005, 06:32 GMT 11:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ

کراچی میں سیکیورٹی انتظامات
انتخابات سے قبل امن و امان کے قیام کا مطالبہ
جماعت اسلامی کے زیر اہتمام اتوار کو کراچی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ منصفانہ بلدیاتی انتخابات اور صوبے بھر میں امن امان کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ سندھ حکومت کو برطرف کر کے نگران حکومت بنائی جائے۔

کانفرنس کے شرکاء نے خبردار کیا ہے کہ ملک سنگین حالات سے گزر رہا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو ملک ایک بار پھر دو لخت ہو سکتا ہے۔

کانفرنس کے شرکاء میں پیپلز پارٹی کے این ڈی خان، مسلم لیگ (ن) کے ممنون حسین، تحریک انصاف کے زبیرخان، عوامی تحریک کے رسول بخش پلیجو، سندھ ترقی پسند پارٹی کے ڈاکٹر قادر مگسی، جمیعت علمائے اسلام کے مولانا عبدالکریم عابد، تحریک اسلامی کے علامہ حسن ترابی، جے یو پی کے حافظ محمد تقی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایم ایم اے، خاکسار تحریک، اے آر ڈی اور سنی تحریک کے دیگر رہنماء بھی کانفرنس میں شریک تھے۔

اے پی سی نے متفقہ طور پر ایک علامیہ منظور کیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صاف اور شفاف بلدیاتی انتخابات اور صوبے بھر میں امن امان کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ سندھ حکومت کو برطرف کرکے نگران حکومت بنائی جائے۔

کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ پُرامن اور منصفانہ بلدیاتی انتخابات کے لیےٹھوس اقدامات کیے جائیں، متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں سے پولیس اور انتظامیہ کو پاک کیا جائے، قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سندھ کو اس کے حصے کے پانی کی ترسیل یقینی بنائی جائے اور مفتی عتیق الرحمٰان، اسلم مجاہد، مفتی شامزئی، عبداللہ مراد اور سنی تحریک کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

کل جماعتی کانفرنس نے سندھ کے اندر اضلاع کی ’سیاسی بنیادوں پر غیر منصفانہ تقسیم‘ کا نوٹس لیا اور مطالبہ کیا کہ اس طرح کی تقسیم کا سلسلہ بند کیا جائے۔

کانفرنس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک گروپ سرکاری سرپرستی کے زور پر بلدیاتی انتخابت سے قبل خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتا ہے اور رائے عامہ کو ہائیجیک کرنا چاہتا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر عبدالغفور احمد نے کہا کہ کانفرنس میں شریک تمام اکابرین اس بات پر متفق ہیں کہ متحد ہو کر جدوجہد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں خبردار کیا کہ پاکستان کسی کا فتح کیا ہوا علاقہ نہیں ہے، یہ ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے اور اس عمل کو بلا روک ٹوک جاری رہنا چاہیے۔

عوامی تحریک کے رسول بخش پلیجو نے کہا کہ سندھ کے اصل وارثوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے این ڈی خان نےمطالبہ کیا کہ سندھ میں فوج کی نگرانی میں نیا سیٹ اپ قائم کیا جائے اور تمام جماعتیں متحد ہو کر اپنا لائحہ عمل پیش کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد