BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 June, 2005, 19:55 GMT 00:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: پہلی کل جماعتی کانفرنس

کراچی
جمعرات کو کراچی میں دن دھاڑے مفتی عتیق الرحمٰن کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا
کراچی میں بلدیاتی اتتخابات سے قبل کل جماعتی کانفرنسیں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں یہ کانفرنسیں منعقد کر رہی ہیں۔ ان کانفرنسوں کا مرکزی نقطہ امن امان ہے۔ کیونکہ یہ جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے دوران پر تشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے تین جولائی کو اور جماعت اسلامی نے اٹھائیس جون کو اے پی سی بلانے کا اعلان کیا ہے۔

سنی تحریک کی جانب سے جمعہ کی شام کو اے پی سی منعقد کی گئی جس میں تیرہ سے زائد تنظیموں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل گورنر بشمول صوبائی حکومت کے برطرف کیا جائے کیونکہ تبھی شفاف بلدیاتی انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں۔ شرکا نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کا رویہ جانبدارانہ ہے۔
اس کانفرنس میں پنجابی پشتوں اتحاد کے رہنما ملک سرور اعوان، عوامی تحریک کے رسول بخش پلیجو، مسلم لیگ )ن( کے سلیم ضیا، ایم ایم اے کے رکن سندھ اسمبلی محمد یونس بارانی، جماعت اسلامی کراچی کے امیر معراج الہدیٰ، اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ حسن ترابی، جمعیت علمائے پاکستان کے حافظ تقی، جماعت اہلسنت کے محمد نجف قادری اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے علی حسن چانڈیو نے شرکت کی۔

اے پی سی میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی جماعت کسی قسم کی دہشتگردی اور ملک دشمن سرگرمی میں ملوث پائی جائے اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور اگر ضروری ہو تو اس پر پابندی عائد کردی جائے۔

کراچی
کچھ روز قبل کراچی میں کے ایف سے کے دکان کو آگ لگا کر کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا

مقررین نے تجویز دی کہ اراکین اسیمبلی پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو فریقین کے مسائل سنے اور اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔

شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے کسی بھی ایک پارٹی کے ساتھ جانبدارنہ رویہ اختیارکیا تو تمام پارٹیاں دہشتگری اور بدامنی کے خلاف مشترکہ احتجاجی تحریک چلائیں گی۔
کانفرنس نے کراچی سیاسی اتحاد کے نام سے ایک متحدہ محاذ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما نثار کھوڑو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو سنی تحریک، ایم ایم اے، اے آر ڈی میں شامل جماعتوں سمیت پی پی و دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے بطور ممبر شامل ہوں گے۔

سنی تحریک کی جانب منعقدہ اے پی سی نے مطالبہ کیا کہ شہر میں بلدیاتی انتخابات سے قبل سنی تحریک، ایم کیو ایم حقیقی، پی پی پی اور دیگر جماعتوں کیلئے نو گو ایریاز کا خاتمہ کیا جائے۔

مقررین نے زور دیا ملک میں دو قومی نظریے کے خلاف سرگرم گروپوں اور جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔

کانفرنس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کراچی میں قتل ہونے والے علما، مذہبی و سیاسی کارکنوں، عبادت گاہوں میں بم دہماکوں، اور سیاسی جماعتوں کے خلاف ریاستی مشینری کے پرتشدد استعمال کے واقعات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن سے کرائی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد