سندھ: پہلی کل جماعتی کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بلدیاتی اتتخابات سے قبل کل جماعتی کانفرنسیں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں یہ کانفرنسیں منعقد کر رہی ہیں۔ ان کانفرنسوں کا مرکزی نقطہ امن امان ہے۔ کیونکہ یہ جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے دوران پر تشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نے تین جولائی کو اور جماعت اسلامی نے اٹھائیس جون کو اے پی سی بلانے کا اعلان کیا ہے۔ سنی تحریک کی جانب سے جمعہ کی شام کو اے پی سی منعقد کی گئی جس میں تیرہ سے زائد تنظیموں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل گورنر بشمول صوبائی حکومت کے برطرف کیا جائے کیونکہ تبھی شفاف بلدیاتی انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں۔ شرکا نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کا رویہ جانبدارانہ ہے۔ اے پی سی میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی جماعت کسی قسم کی دہشتگردی اور ملک دشمن سرگرمی میں ملوث پائی جائے اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور اگر ضروری ہو تو اس پر پابندی عائد کردی جائے۔
مقررین نے تجویز دی کہ اراکین اسیمبلی پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو فریقین کے مسائل سنے اور اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے کسی بھی ایک پارٹی کے ساتھ جانبدارنہ رویہ اختیارکیا تو تمام پارٹیاں دہشتگری اور بدامنی کے خلاف مشترکہ احتجاجی تحریک چلائیں گی۔ سنی تحریک کی جانب منعقدہ اے پی سی نے مطالبہ کیا کہ شہر میں بلدیاتی انتخابات سے قبل سنی تحریک، ایم کیو ایم حقیقی، پی پی پی اور دیگر جماعتوں کیلئے نو گو ایریاز کا خاتمہ کیا جائے۔ مقررین نے زور دیا ملک میں دو قومی نظریے کے خلاف سرگرم گروپوں اور جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔ کانفرنس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کراچی میں قتل ہونے والے علما، مذہبی و سیاسی کارکنوں، عبادت گاہوں میں بم دہماکوں، اور سیاسی جماعتوں کے خلاف ریاستی مشینری کے پرتشدد استعمال کے واقعات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن سے کرائی جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||