کراچی میں لڑکی کی سربریدہ لاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پولیس کو ایک نوجوان لڑکی کی سربریدہ لاش ملی ہے جسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ یہ لاش پولیس کوگلستانِ جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کا سر اور پیر کٹے ہوئے ہیں۔ برہنہ لاش کرکٹ کے کِٹ بیگ میں پڑی ہوئی تھی۔ علاقے کے بچوں نے لاش دیکھ کر والدیں کو بتایا جنہوں نے سے کو اطلاع ملی۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل لیگل آفیسر کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا جسم بری طرح جلایا گیا ہے اور جسم پر تشدد کیا گیا ہے۔ پولیس نے لاش ایدھی کے سرد خانے میں رکھوادی ہے جبکہ پولیس کو مقتولہ کے سر اور پیروں کی تلاش ہے۔ گلشن اقبال کے ٹاؤن پولیس افسر آصف اعجاز کا کہنا ہے کہ لڑکی کی ابھی تک کوئی شناخت نہیں ہوئی تاہم پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ خواتیں پر تشدد کے خلاف کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن نے واقع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اے ایف کی پروگرام آفیسر آسیہ بانو کا کہنا ہے کہ پولیس ان کو بلائینڈ کیس قرار دیتی ہے جس کی کوئی تحقیقات نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کی تحقیقات نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملزماں گرفتار نہیں ہوتے اور سوچتے ہیں کہ اگر وہ شناخت ختم کر دیں تو انہیں پکڑا نہیں جائے گا۔ آسیہ کا کہنا تھا کہ پولیس کے رویے کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایدھی کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ لاش کی حالت بہت خستہ ہے جس وجہ سے اس کو فوری دفن کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نامعلوم لاش کی تصویر البم میں لگادیتے ہیں اگر کسی کو شناخت کی ضرورت ہو تو اس میں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی گلبرگ کے علاقے سے ایک نوجواں لڑکی کی لاش ملی تھی جس کی شناخت جمعرات کے روز ثناء کے نام سے کی گئی ہے جو مقامی ڈانسر تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ثناء کے جسم پر کسی تشدد کا نشان نہیں تھا اس کے منہہ سے جھاگ نکلی ہوئی تھی جبکہ میڈیکل لیگل افسر نے اس کی رپورٹ محفوظ کی ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||