بچی کا قتل، احتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر مشکے میں کمسن بچی کی ہلاکت کی تفتیش کے دوران پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں اور طلبا تنظیموں نے پر امن احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ضلع آواران کی تحصیل مشکے کوئٹہ سے ساڑھے چار سو کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے جہاں بدھ کو کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں اور پہیہ جام رہا۔ مظاہرین نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقے کی روایات کے خلاف ہیں۔ آواران کے ناظم خیر جان نے کہا ہے کہ پولیس نے سراغ رساں کتوں کی مدد سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے جس مقام سے بچی کی لاش ملی تھی اس جگہ سے کتوں کو چھوڑا گیا جو ایک مکان تک گئے تاہم اس بارے میں مذید تفتیش کی جا رہی ہے۔ گزشہ روز مشکے میں ایک چھ سالہ بچی کی لاش برہنہ حالت میں شہر میں پھینک دی گئی تھی ْ بچی کو آزار بند سے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اس بچی کو پیر کو شام کے وقت نا معلوم افراد اغوا کر کے لے گئے تھے۔ کمسن بچی کے ساتھ اس وحشیانہ سلوک کے بعد علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں تین افراد کے زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعہ پر بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور مقامی لوگوں نے خلاف زبردست احتجاج کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور لیویز تھا نے کا گھیراؤ کیا گیا جس پر پولیس اور لیویز اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی۔ گزشتہ روز مشکے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نےگاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور مظاہروں کے نتیجے میں علاقے کے کاروباری مراکز بند کرنے پڑے۔ بچی کے والد ڈاکٹر عالم نے کہا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی بس ظالموں نے بچی قتل کرنا تھا جو انہوں نے کردیا ہے۔ خیر جان بلوچ نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے خلاف لوگوں کو رد عمل قدرتی تھا کیونکہ اس طرح کا واقعہ اس علاقے میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ضلعی حکومت اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔ ضلع آواران اور خصوصاً تحصیل مشکے میں جرائم کی شرح کافی زیادہ ہے جبکہ دوسری جانب یہاں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد کافی کم ہے۔ ضلعی ناظم خیر جان نے بتایا ہے کہ آواران کی آبادی کوئی ڈیڑھ لاکھ ہے جبکہ لیویز کی تعداد تین سو اور مشکے تحصیل میں صرف دس پولیس اہلکار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بارہا صوبائی حکومت کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے لیکن لیکن کوئی سنوائی نہیں ہو ئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||