پاکستان: ’7 سال میں 66 ہزار قتل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ سات برسوں کے دوران چھیاسٹھ ہزار قتل، سولہ ہزار خواتین کی عصمت دری اور پچاس ہزار افراد اغوا کرنے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار منگل کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وفاقی وزیر داخلہ نے پروفیسر خورشید احمد کے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں پیش کیے ہیں۔ مقدمات کی صوبہ وار تفصیل بھی پیش کی گئی ہے اور اس اعتبار سے صوبہ پنجاب پہلے نمبر پر ہے۔ باقی تینوں صوبوں اور اسلام آباد میں درج ہونے والے مقدمات سے پنجاب میں ہونے والے مقدمات دوگنے ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق سن اٹھانوے سے لے کر دو ہزار چار تک چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر قتل، عصمت دری، اغوا، شاہراہوں پر لوٹ مار، کار چوری، گھروں سے چوری اور بچوں کے ساتھ زیادتی یا اغوا کی کل پانچ لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ وارداتیں رپورٹ کی گئیں۔ سب سے زیادہ گھروں سے چوری کے مقدمات یعنی تین لاکھ ستاسی ہزار رپورٹ ہوئے جن میں سے تین لاکھ تریسٹھ ہزار سے زیادہ صرف پنجاب میں مقدمات درج ہوئے۔ جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر قتل اور تیسرے نمبر پر اغوا کی وارداتیں ہوئیں۔ اس عرصہ میں وزارت داخلہ کے مطابق اٹھارہ ہزار سے زیادہ کاریں چھینی گئیں۔ سب سے زیادہ کاریں صوبہ سندھ سے چھینی گئیں جن کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار ہے۔ پنجاب میں کار چھیننے کے ساڑھے تین ہزار مقدمات درج کیے گئے۔ وزیر داخلہ نے ایک اور سوال کے جواب میں ایوان کو مطلع کیا ہے کہ پچاس ہزار سے زیادہ اغوا کی وارداتوں میں سے پندرہ سو مقدمات اغوا برائےتاوان کے درج ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق تاوان کے لیے اغوا ہونے والے تئیس مغویوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ باقی رہا ہوگئے۔ اس جرم میں ملوث بائیس سو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||