BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 April, 2005, 04:12 GMT 09:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقتولہ کے والد اور بھائی پر مقدمہ

فائل فوٹو
عزت کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات کے خلاف احتجاج (فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں غیرت کے نام پر قتل کے ایک واقعے میں قتل ہونے والی لڑکی کے پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے اس کے والد اور بھائی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی کُلاچی تحصیل کے گرہ اسلم علاقے میں پولیس نے گزشتہ دنوں ایک سترہ سالہ قمرالنساء کو عزت کے نام پر قتل کرنے کے شک میں اس کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا۔ پولیس کو شک تھا کہ اس عورت کو مبینہ طور پر اس کے بھائیوں نے قتل کر کے دفنا دیا تھا۔

پولیس کے مطابق ایک مقامی شخص صالح محمد کی انیس سالہ بیٹی قمرالنساء اس ماہ کی بارہ تاریخ کو گھر سے کسی بات پر ناراض ہوکر چلی گئی۔ اطلاعات کے مطابق بعد میں اسے گولی مار کر ہلاک کر کے بغیر کسی پولیس رپورٹ کے دفنا دیا گیا۔

چند روز بعد یہ بات گھر سے باہر نکلی اور علاقے کے لوگوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسے عزت کے نام پر قتل قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ان مطالبات اور اخباری خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے دپٹی انسپکٹر جنرل ڈیرہ اسماعیل خان ذولفقار احمد چیمہ نے متعلقہ تھانے کو مجاز عدالت سے اجازت لے کر اس عورت کی قبر کھود کر لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔

قبر کی کھدائی کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ قمرالنساء کو کنپٹی پر پستول سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے پر پولیس نے والد صالح خان اور بھائی ممتاز خان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ان میں سے ایک کو پولیس نے پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد