BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 April, 2005, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پادری کے قتل کے خلاف مظاہرہ

پادری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ
مظاہرے کی وجہ سے ٹریفک کئی گھنٹے بند رہی
پشاور کی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مظاہرین نے جمعے کو ایک پادری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں یونیورسٹی روڈ کئی گھنٹوں تک ٹریفک کے لئے بند کر دی۔

پروٹیسٹنٹ پادری بابر سیموئن اور اس کے ڈرائیور کی مسخ شدہ لاشیں پولیس کو کل ناصر باغ کے ایک ویران علاقے سے ملیں تھیں۔

پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے پشاور کے تہکال پایاں علاقے سے تعلق رکھنے والے پروٹیسٹنٹ پادری بابر سیمون اور اس کے ڈرائیور ڈینیل عمنویل کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ اغوا کاروں نے ان کی لاشیں مسخ بھی کیں۔

لاشیں ملنے کی خبر پر پشاور کی مسیحی برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور وہ سینکڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

جمعے کے روز انہوں نے یہ عمل دوبارہ دوہرایا اور ہلاک شدگان کا لاشیں اٹھائے مصروف یونیورسٹی روڈ پر نکل آئے۔ بازوں پر سیاہ پٹیاں لگائے، مظاہرین نے سڑک ٹریفک کے لئے کئی گھنٹے بند رکھی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر پادری کے قاتلوں کو جلد سزا دینے کے مطالبات درج تھے۔ بعد میں پادری اور ان کے ڈرائیور کو گورا قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

بابر سیموئن تعلیمی شعبے میں علم دوست نامی ایک غیرسرکاری تنظیم بھی چلاتے تھے۔ ان کے قتل کی وجہ ابھی تک واضع نہیں۔ پولیس البتہ اسے فی الحال ذاتی دشمنی کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔

پولیس نے شک کی بنیاد پر ایک استانی اور ایک اور شخص کو حراست میں بھی لیا ہے۔ مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔

کئی مسیحی رہنماؤں نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد