| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں شراب پر ہنگامہ
غیر مسلموں کے لیے شراب کے پرمٹوں پر منگل کے روز پنجاب اسمبلی میں اس وقت ایک شور شرابہ ہوگیا جب مسیحی ارکان اسمبلی نے صوبائی وزیر ایکسائز کے اس بیان پر احتجاج کیا کہ انھیں ایک بشپ نے بتایا تھا کہ عیسائیت میں شراب نوشی جائز ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے یہ سوال پوچھا تھا کہ صوبہ میں کتنے غیرمسلموں کو شراب خریدنے کے پرمٹ دیے گئے ہیں۔ وزیر ایکسائیز چودھری شفیق نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ پنجاب میں شراب کی فروخت کے لیے تیرہ ہزار دو سو تریسٹھ پرمٹ جاری کیے گۓ ہیں۔ صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ حکومت غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مناسبت سے پرمٹ دیتی ہے۔ وزیر نے کہا کہ حکومت پرمٹ جاری کرتے ہوئے صرف اس پرمٹ لینے والے پر عمر کی پابندی لگاتی ہے جو اکیس سال سے کم نہیں ہونی چاہیے اور اس ضمن میں آمدن کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شراب کے پرمٹ لینے والے کم آمدن کے لوگ ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جس شحص کی آمدن پینتیس سو روپے ماہانہ ہو وہ سات ہزار روپے ماہانہ کی شراب پی جائے۔ وزیر ایکسائز نے کہا کہ وہ ایک بار چرچ گئے تھے اور لاہور کے بشپ سے ملے تھے جنھوں نے انھیں بتایا کہ عیسائیت میں شراب نوشی جائز ہے۔ وزیر کے یہ بات کہنے پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور عیسائی ارکان اسمبلی پرویز رفیق نے کہا کہ وزیر موصوف جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ کہ ان کے پاس اگر بشپ کا یہ بیان تحریری صورت میں ہے تو وہ انھیں دکھائیں وہ بشپ کا بھی گھیراؤ کریں گے۔ وزیر ایکسائز نے مشتعل ارکان سے کہا کہ ان کی بات پوری سنی جائے۔ انھوں نے کہا کہ بشپ نے انھیں یہ بھی کہا تھا کہ ان کے مذہب میں جو شراب جائز ہے وہ پاکستان میں تیار نہیں کی جاتی۔ وزیر نے وضاحت کی کہ انھوں نے غیر مسلم کا لفظ استعمال کیا تھا جس میں مسیحوں کے علاوہ ہندو، سکھ اور دوسری اقلیتیں شامل ہیں۔ اس موقع پر ایک عیسائی رکن اسمبلی نے ایک کتاب فضا میں لہرائی اور کہا کہ یہ بائیبل ہے جس میں کہیں بھی شراب نوشی کی اجازت نہیں اور وزیر بتائیں کہ ان کے کون سے تہوار ہیں جن کے لیے حکومت شراب نوشی کے پرمٹ جاری کرتی ہے۔ انھیں تو ایسے کسی تہوار کا علم نہیں۔ رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کے مذہب کے غریب لوگ آٹھ دس ہزار روپے کی شراب خریدنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس پر وزیر ایکسائز نے کہا کہ مسلمانوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سب ایوان اس حوالے سے کسی نظر ثانی کی سفارش کرے تو حکومت شراب کے پرٹ جاری کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ ایک مسیحی رکن اسمبلی نے تجویز کیا کہ اسمبلی میں قرار داد لائی جاۓ شراب نوشی کے حوالہ سے جاری کیے گۓ تمام پرمٹ منسوخ کیے جائیں اور اس پر مسیحی ارکان اسمبلی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||