پولیس پر فائرنگ، چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک قیدی سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ضلعی عدالت کے مین گیٹ کے سامنے چند قیدیوں کو ان کے مسلح ساتھیوں نے چھڑوانے کی کوشش کی۔ ان چار قیدیوں محمد نعیم بٹ عرف نعیما، عامر جاوید، جاویدول عطا اور راحیل شاہ کو سنگین نوعیت کے درجنوں مقدمات کا سامنا تھا۔ جمعرات کو ان کی گوجرانوالہ کی مختلف عدالتوں میں پیشی تھی۔ گوجرانوالہ پولیس کے دو کانسٹیبل انہیں ہتھکڑیاں لگائے تین مختلف عدالتوں میں پیش کرانے کے بعد واپس عدالت کے احاطے میں ملزمان کو قید رکھنے کے لیے بنے بخشی خانے لے جا رہے تھے۔ ضلعی عدالتوں کے مرکزی گیٹ پر زیر حراست ملزمان کے چند ساتھیوں نے، جن کی تعداد کم از کم پانچ بتائی جاتی ہے، انہیں روک کر کہا کہ وہ ان قیدیوں کو پانی پلانا چاہتے ہیں۔ کانسٹیبل کے انکار پر قیدیوں کے ساتھیوں نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے ایک کانسٹیبل ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا بھگدڑ میں زمین پر گر گیا۔ گوجرانوالہ کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر عارف مشتاق نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں کو گرنےوالے پولیس والے کے بارے میں یہ غلط فہمی ہوگئی کہ وہ ہلاک ہوگیا ہے۔ وہ اسے نظر انداز کرکے قیدیوں سمیت فرار ہونے لگے تو زمین پر گرے کانسٹیبل سکندر علی نے فائرنگ کردی۔ جس سےدو حملہ آور اور ایک قیدی عامر جاوید ہلاک ہوگئے باقی حملہ آور تین قیدی سمیت فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق جو قیدی فرار ہوئے ہیں وہ قتل ، ڈکیتی، منشیات فروشی اور پولیس مقابلے جیسے پچاس سے زائد سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات کا سامنا تھا۔ ہلاک ہونے والا عامر جاوید عمر قید کا سزا بھی کاٹ رہا تھا اور اس کے خلاف دوسرے مقدمات ابھی زیر سماعت تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||