BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 June, 2005, 05:05 GMT 10:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: حقوق انسانی کمیشن کی تشویش

سندھ
وزیرِاعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم
انسانی حقوق کی کمیشن نے سندھ میں امن امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کو اولین ترجیح بنایا ہوا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے پریس بریفنگ میں حکومت سندھ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب لسانی دہشت گرد، دوسری جانب فرقہ وارانہ دہشت گرد، تیسری جانب جرائم پیشہ افراد کی دہشت گردی اور چوتھی ریاستی دہشت گری کے ذریعہ مخالفیں کو سفاکی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جس کی مثال پورے پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ملتی۔

ایچ آر سی پی نےسنی تحریک کے کارکنوں پر وحشیانہ تشدد اور ان کے قتل اور امام بارگاہوں میں بم دہماکوں کی شدید مذمت کی۔

اقبال حیدر نے کہا کہ ہم اسلم مجاہد کے قتل کو بھی انسانیت سوز وحشیانہ کارروائی قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح قتل وغارت ہو رہی ہے اور ریاست خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سندھ نے اپنے سیاسی مخالفیں کو ہراساں کرنے کو اپنی اولیں ترجیح بنایا ہوا ہے۔

فرحین مغل
رکن اسمبلی فرحین مغل

اقبال حیدر نے کہا کہ کمیشن ایم ایم اے کے رکن اسمبلی محمد حسین محنتی اور نصراللہ شجیح کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو ہر رکن اسمبلی کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کی گرفتاری کے لیے اسپیکر سے اجازت لی جائے۔ اس طرح زاہد بھرگڑی کی گرفتاری کا سپیکر نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اتنی کمزرہ ہے کہ سندھ کی خواتین ارکان اسمبلی حمیرا علوانی، فرحیں مغل اورشمیم آرا پنہور کے مسلسل ہراساں کیے جانے کو بھی نہیں روک سکتی۔ حکومت سندھ نے ظلم اور ناانصافیوں کا ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایچ آر سی پی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں مئی دو ہزار چار سے لیکر دوہزار پانچ تک دوسو انچاس عورتوں سمیت ساڑھے چار سو افراد کو کارو کاری میں قتل کیا گیا۔

شمیم پنہور
شمیم آرا پنہور

جبکہ حالیہ سال جنوری سے لیکر مئی تک زنا کے ایک سو بیس واقعات ہوئے۔ اس عرصے میں ایک سو پچاسی خواتین اور تین سو چالیس مردوں نے خودکشی کی ۔ اس دوران ایک سو آٹھ جرگے ہوئے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق مئی دوہزار چار سے لیکر دو ہزار پابچ تک آٹھ سو پچانوے افراد قتل اور تین سو سے زائد اغواء ہوئے۔

66خصوصی گرانٹ
سندھ کاوفاق سے خصوصی گرانٹ کامطالبہ
66ارباب رحیم کا ایمان
اللہ اور مشرف نے چاہا تو کوئی نہیں ہٹا سکتا
66مسلم لیگ میں تناؤ
امتیازشیخ کی برطرفی کےبعد سیاسی رسہ کشی
66سندھ میں دفعہ 144
عید الاضحیٰ کے موقع پر دفعہ 144 کا اعلان
زمیندار ڈاکو
سندھ کے’ریٹائرڈ‘ ڈاکوؤں کی جاگیر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد