ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 |  وزیرِاعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم |
انسانی حقوق کی کمیشن نے سندھ میں امن امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کو اولین ترجیح بنایا ہوا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے پریس بریفنگ میں حکومت سندھ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب لسانی دہشت گرد، دوسری جانب فرقہ وارانہ دہشت گرد، تیسری جانب جرائم پیشہ افراد کی دہشت گردی اور چوتھی ریاستی دہشت گری کے ذریعہ مخالفیں کو سفاکی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جس کی مثال پورے پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ملتی۔ ایچ آر سی پی نےسنی تحریک کے کارکنوں پر وحشیانہ تشدد اور ان کے قتل اور امام بارگاہوں میں بم دہماکوں کی شدید مذمت کی۔ اقبال حیدر نے کہا کہ ہم اسلم مجاہد کے قتل کو بھی انسانیت سوز وحشیانہ کارروائی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح قتل وغارت ہو رہی ہے اور ریاست خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سندھ نے اپنے سیاسی مخالفیں کو ہراساں کرنے کو اپنی اولیں ترجیح بنایا ہوا ہے۔
 |  رکن اسمبلی فرحین مغل |
اقبال حیدر نے کہا کہ کمیشن ایم ایم اے کے رکن اسمبلی محمد حسین محنتی اور نصراللہ شجیح کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو ہر رکن اسمبلی کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کی گرفتاری کے لیے اسپیکر سے اجازت لی جائے۔ اس طرح زاہد بھرگڑی کی گرفتاری کا سپیکر نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اتنی کمزرہ ہے کہ سندھ کی خواتین ارکان اسمبلی حمیرا علوانی، فرحیں مغل اورشمیم آرا پنہور کے مسلسل ہراساں کیے جانے کو بھی نہیں روک سکتی۔ حکومت سندھ نے ظلم اور ناانصافیوں کا ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایچ آر سی پی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں مئی دو ہزار چار سے لیکر دوہزار پانچ تک دوسو انچاس عورتوں سمیت ساڑھے چار سو افراد کو کارو کاری میں قتل کیا گیا۔
 |  شمیم آرا پنہور |
جبکہ حالیہ سال جنوری سے لیکر مئی تک زنا کے ایک سو بیس واقعات ہوئے۔ اس عرصے میں ایک سو پچاسی خواتین اور تین سو چالیس مردوں نے خودکشی کی ۔ اس دوران ایک سو آٹھ جرگے ہوئے۔ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق مئی دوہزار چار سے لیکر دو ہزار پابچ تک آٹھ سو پچانوے افراد قتل اور تین سو سے زائد اغواء ہوئے۔ |