خصوصی گرانٹ: سندھ کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے پر ملک کےدیگر صوبوں سے آئے ہوئے لوگوں کی آبادی کا دباؤ ہے اس لیے سندھ کو دس سے بارہ ارب روپے کی خصوصی گرانٹ دی جائے۔ سندھ کے وزیر خزانہ سردار احمد نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پوری کوشش تھی کہ قومی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان ہوجائے ۔ مگر ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود ا یسا نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اور کچھ تو نہیں کہہ سکتا مگر سندھ کے مطالبات کے سردار احمد کے مطابق اگر این ایف سی ایوارڈ کا اعلان ہوجاتا تو سندھ کو واضح رہے کہ صوبوں نے این ایف سی کے معاملات حل کرنے کے لیے صدر پرویز مشرف کو امین مقرر کیا تھا ۔ جنہوں نے وزیر اعظم شوکت عزیز کو چھٹے مالیاتی ایوارڈ کے اعلان کا اختیار دے دیا ہے۔ سردار احمد کا کہنا تھا کہ سروسز پر ٹیکس خالص صوبائی معاملہ ہے۔ مگر اسے بھی وفاقی حکومت وصول کرتی ہے۔ اس ٹیکس میں بھی سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکس میں سندھ کا حصہ ایک ارب ستاون کروڑ بنتا ہے مگر اس کو صرف سترکروڑ روپے دیے گئے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ بجٹ کا خسارہ نو ارب روپے ہے۔جس کو کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس پھنسی ہوئی رقم کی وصولی اور اخراجات میں کمی کی کوشش کی جائےگی۔ سردار احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مہنگے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نجی شعبے سے قرضے لینے کی بھی تجویز پیش کی تھی مگر وفاقی حکومت نے اسے رد کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||