BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 June, 2005, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ بجٹ: ارکان کو مالی فائدہ

News image
سندھ کے وزیر خزانہ سردار احمد
صوبہ سندھ کے بجٹ میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین اور رکن صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے اور رکن اسمبلی کو چالیس ہزار روپے سفر کے اخراجات کی مد میں اصافہ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

سندھ اسمبلی میں جمعہ کو مالی سال دوہزار پانچ اور دوہزار چھ کا ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا گیا۔ جس کا مجوعی حجم ایک سو اٹہتیس ارب روپے ہے ۔ بجٹ کا خسارہ آٹھ ارب روپے کا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ سردار احمد نے اپوزیشن کے سخت احتجاج اور شور میں بجٹ تقریر کی۔ حزب اقتدار اور حزب مخالف کے ممبر احتجاج اور حمایت میں ڈیسک بجاتے رہے۔

سردار احمد کا کہنا ہے کہ بجٹ کا کل حجم ایک سو اٹھتیس ارب ہے۔ جس میں محصولاتی اخراجات کا تخمینہ ایک سو اٹھارہ اعشاریہ ترانوے ارب روپے لگایا گیا ہے۔

جبکہ عام ریونیو وصولیابیوں کا تخمینہ ایک سو بارہ اعشاریہ پچانوے ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی منتقلیوں کا تخمینہ باون ارب روپے لگایا گیا ہے۔ جبکہ صوبائی وصولیوں کا تخمینہ انیس اعشاریہ اٹھائیس ارب روپے ہے۔
سردار احمد نے بتایا کہ کیپیٹل آمدنیوں کا تخمینہ چار اعشاریہ اسی ارب روپے لگایا گیا ہے اور کیپیٹل اخراجات سات اعشاریہ اکاسی ارب روپے متوقع ہے اس طرح دونوں کھاتوں میں مجوعی خسارہ آٹھ سو نانوے ارب روپے ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سندھ حکومت پر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں گزشتہ دو دہایوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ جون دو ہزار پانچ تک سندھ حکومت کے مجموعی قرضوں کا بوجھ ایک سو دس اعشاریہ چھبیس ارب روپے تھا۔

سردار احمد نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات اٹھائیس اعشاریہ پچہتر ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ جس میں چار اعشاریہ پچہتر ارب کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔ مقامی حکومتوں کو مجموعی منتقلی پچاس اعشاریہ بہّتر ارب روپے ہوگی۔

بجٹ دستاویز کےمطابق سب سے زائد رقومات جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے رکھی گئی ہیں ۔ جبکہ دوسرے نمبر پر امن امان کے لیے دواعشاریہ آٹھ ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کمیونٹی سروسز کے لیے ایک سو نوے ارب جبکہ سوشل سروسز کے لیے آٹھ سو نوے ارب روپے رکھ گئے ہیں۔

کراچی میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے منصوبے کے لیے دس کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ جبکہ کراچی سائیٹ، نوری آباد، حیدرآباد، کوٹڑی، سکھر اور نوابشاہ کے صنعتی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ستتر کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

سردار احمد کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے سوشل رلیف فنڈ کے قیام کی تجویز دی ہے اس مد میں تین اروب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سالانہ دو ارب روپے کا اصافہ ہوگا۔ اس فنڈ سے سینئر سٹیزن، غریب خاندانوں، بیواوں اور یتیموں کی مدد کی جائیگی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے ہاؤسنگ ڈائریکٹر قائم کرتے ہوئے ایک ہاؤسنگ اسکیم قائم کی جائے جو سرکاری ملازمین کو مناسب قیمت پر پلاٹ فراہم کرے گی۔

سردار حمد نے وفاقی حکومت کے اعلان کے تحت صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ سرکاری اسپتالوں میں بیڈ فیس ختم کردی گئی ہے۔

اسلحہ لائسنس بنوانے کی فیس بیس ہزار سے بڑہا کر ایک لاکھ روپے کردیگی ہے۔
بجٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان شور کرتے رہے۔

اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے کہا کے یہ بدترین بجٹ ہے جبکہ پی پی پی کے خواتین ممبر نامنظور نامنظور کے نعرے لگاتیں رہیں۔ اسپیکر نے اجلاس سوموار کی شام تک ملتوی کردیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد