سندھ: 4 ناظمین کی بحالی اور معطلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے سندھ کی جیکب آباد ضلعی اسمبلی کو سِیل کر کے وہاں ناکہ بندی کر دی۔ ڈی سی او جیکب آباد کا کہنا ہے کہ انہوں نے بالا اتھارٹی کی ہدایات پر اسمبلی اور ریکارڈ سیل کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے سنیچر کے روز پیپلز پارٹی کے حامی چار ناظمین کے اختیارات کی معطلی کی مدت میں 24 مئی تک توسیع کر دی تھی۔ جن میں سے دو نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا تھا۔ جیکب آباد کے ضلع ناظم اور سینیئر سیاستدان میر ہزار خان بجارانی کے فرزند شبیر بجارانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالتی حکم کے تحت ہی چارج لیا تھا لہذا انہوں نے توہینِ عدلت نہیں کی۔ اس سے قبل دس مئی کو جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس صادق لغاری پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ان ناظمین کو برطرف کرنے کے سندھ حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کر دیا تھا۔ تاہم حکومت کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے دس دن کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ اس مدت کے بعد اگر سپریم کورٹ حکم امتناعی جاری نہیں کرتی تو وہ اپنے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔ ناظمین کی سندھ ہائی کورٹ سے بحالی کے خلاف سپریم کورٹ کا کراچی میں شیڈیول نہ ہونے کی وجہ سے مقررہ دس دن میں حکومت کی اپیل کی سماعت نہ ہو سکی۔ سنیچر کے روز سندھ ہائی کورٹ میں حکومت سندھ نے ناظمین کے اختیارات کی معطلی کی مدت میں توسیع کی درخواست دی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے شیڈیول نہ ہونے کی وجہ سے حکومت درخواست دائر نہیں کر سکی ہے۔ عدالت نے معطلی کی مدت میں چار دن کی توسیع کر دی۔ ادھر چار میں سے دو اضلاع میں معطل ناظمین لاڑکانہ کے خورشید جونیجو اور میرپور خاص کے شفقت شاہ جیلانی نے عدالت کے حکم سے پہلے ہی عہدوں کا چارج سنبھال لیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد احمد پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ناظمین کے چارج سنبھالنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا دراصل عدالت نے اپنے گزشتہ آرڈر میں توسیع کی ہے۔ ناظمین کے وکیل مجیب پیرزادہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کیس سپریم کورٹ کو ریفر ہونے کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں رہا۔ وہ اس معاملے کو عدالت میں اٹھائیں گے۔ سینیئر سیاستدان حفیظ پیرزادہ نہ بتایا کہ ناظمین نے عدالت کے فیصلے کے تحت عہدوں کا چارج لیا ہے۔ اب ان کو روکنا یا ہٹانا توہین عدالت کے مترادف ہے۔ چار اضلاع کی مزید تقسیم کے بعد چند ماہ قبل سندھ حکومت نے دادو کے ضلع ناظم ملک اسد سکندر، لاڑکانہ کے خورشید جونیجو، جیکب آباد کے شبیر بجارانی اور میرپور خاص کے شفقت حسین شاہ جیلانی کو یہ کہہ کر برطرف کر دیا تھا کہ ان اضلاع کی تقسیم کے بعد انہیں عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||