BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سال میں 107 افراد کاروکاری

News image
ایک سال کے دوران سندھ میں 107 افراد کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا گیا۔ ایک سو اٹھارہ افراد کو اغوا کیا گیا جن میں سے 23 تاوان ادا کر کے رہا ہوئے۔

سندھ اسمبلی کو سرکاری طور پر بتایا گیا کہ کاروکاری کے الزام میں سب سے زیادہ قتل کے واقعات جیکب آباد ضلع میں ہوئے جہاں انتیس افراد کو قتل کیا گیا۔

دوسرے نمبر پر شکارپور رہا جہاں پندرہ افراد کو قتل کیا گیا۔ تیرہ افراد کو سکھر میں جبکہ خیرپور اور لاڑکانہ میں بارہ بارہ افراد کو قتل کیا گیا۔

منگل کے روز سندھ اسمبلی کو بتایا گیا کہ صوبے میں گزشتہ سال کے دوران ایک سو اٹھارہ افراد کو اغوا کیا گیا جن میں سے 23 تاوان ادا کرکے رہا ہوئے جب کہ 95 افراد کو پولیس کی کوششوں سے رہائی ملی۔

اغوا ہونے والوں میں چودہ بچے اور 79 عورتیں شامل تھیں۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق صرف کراچی اور حیدرآباد میں تاوان ادا کر کے لوگوں کو ڈاکوؤں کے قبضے سے رہائی نصیب ہوئی۔ جبکہ باقی اضلاع کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ پولیس کے ذریعے رہا ہوئے ہیں۔

اغوا ہونے والوں کی تعداد کراچی میں زیادہ بتائی گئی ہے جہاں پینتیس افراد کو اغوا کیا گیا جن میں سے 22 افراد تاوان ادا کر کے رہا ہوئے جبکہ پولیس صرف تیرہ افراد کو رہا کرا پائی۔

حیدرآباد میں ایک مرد اور دو بچوں کو اغوا کیا گیا جن میں سے ایک کو تاوان ادا کر کے رہائی ملی۔

سکھر میں 44 افراد اغوا ہوئے جن میں تیرہ مرد، پچیس عورتیں اور اور چھے بچے شامل تھے۔ شکارپور میں آٹھ مرد اور ایک بچے کو، نواب شاہ میں چار افراد کو، نوشیرو فیروز میں ایک شخص کو، خیرپور میں چار افراد کو، لاڑکانہ میں تیرہ افراد اور دادو میں پانچ مردوں کو اغوا کیا گیا۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ شکارپور، نوابشاہ، نوشیروفیروز، لاڑکانہ، دادو اور خیرپور میں تمام مغویوں کو پولیس نے رہا کرایا ہے۔

پی پی کی رکن اسمبلی نسرین چانڈیو نے ان اعداد وشمار کو مسترد کیا ہے اور کہا کہ اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں حکومتی دعوؤں کو غلط قرار دیتی ہیں۔ کیونکہ شاید ہی کوئی دن خالی ہو جب اغوا یا قتل کی واردات کسی ضلع میں نہ ہوتی ہو۔

نسرین چانڈیو نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے منہ چھپانا چاہ رہی ہے اور ایسے واقعات کی رپورٹ ہی درج نہیں کی جاتی۔

ایوان کو بتایا گیا کہ سال 2004 کے دوران صرف کراچی میں چھہتر لوگوں نے خودکشی کی۔

صوبے میں ایک سال کے عرصے میں گیارہ ہزار ایک سو تراسی گاڑیاں چھینی یا چوری کی گئیں۔ جن میں سے صرف چار ہزار پانچ سو پچاسی برآمد کی جا سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد