کشن گنگا، ڈیزائن پر اختلاف برقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بنائے جانے والے ہائڈل پاور کشن گنگا پراجیکٹ کے ڈیزائن پر اختلاف رائے ختم نہیں ہوسکا اور اس معاملہ پر بات چیت اگلے دور تک ملتوی کردی گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان پن بجلی کے اس متنازعہ منصوبہ پر بات چیت کا پیر کو دوسرا دن تھا اور یہ بات چیت منگل تک جاری رہے گی۔ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ تین سو تیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے مظفرآباد سے ڈھائی سو کلومیٹر دور دریائے نیلم پر اٹھائیس کلومیٹر لمبی سرنگ کے ذریعے پانی کا رخ موڑ کر بنائے جانے والے پن بجلی پیدا کرنے کے اس منصوبہ پر انیس سو چورانوے میں کام شروع کیاگیا تھا جس پر سندھ طاس معاہدہ کے مطابق پاکستان نے مقررہ مدت کے اندر اس پر اپنے اعتراضات بھارت کو پیش کیے تھے ۔ جماعت علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت نے کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن کے بارے میں جو اعداد و شمار مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ اس نے فراہم نہیں کیے اوراس معاملہ کو مذاکرات کے اگلے دور تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت مقرر کیے گئے کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان نے کشن گنگا ڈیم پراجیکٹ پر چھ سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے منصوبہ کی ہائڈرالکس پر بات چیت شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح کی بات چیت میں دونوں فریقین کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے اور جو اعداد و شمار پاکستان چاہتا تھا وہ اسے نہیں مل سکے۔انہوں نے کہا کہ اب طے ہوا ہے کہ ڈیزائن کے معاملہ پر بات چیت کے اگلے دور میں بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نومبر میں طے کیا گیا تھا کہ کشن گنگا منصوبہ پر تنازعہ کو تین ماہ میں حل کرلیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ معاملہ میں تکنیکی معاملات ہیں اس لیے اسے سلجھانے کے لیے ٹائم فریم میں توسیع کردی گئی۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ یا تو بات چیت کے دوران میں اس منصوبہ پر کام معطل کر دیاجائے یا بات چیت کے ذریعے اسے ایک معینہ مدت میں مکمل کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پندرہ جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن بہت اہم ہے۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ مئی میں کشن گنگا منصوبہ کا علاقہ کھل جاتا ہے اور پاکستان مون سون شروع ہونے سے پہلے اس منصوبہ کے مقام کا معائنہ کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ڈی کے مہتا نے کہا دونوں فریقین نے منصوبہ کے ڈیزائن پر معلومات کا تبادلہ کیا ہے اور ایک دوسرے کے موقف کو سنا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ابھی کسی متفقہ نکتہ پر نہیں پہنچے البتہ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ملک اس تنازعہ کو بات چیت کے تین ادوار میں پندرہ جولائی تک حل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں جن پر بھارت مذاکرات کے اگلے دور میں اپنا جواب دے گا اور ڈیزائن پیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے فریقین نے ایک مشترک نکتہ پر پہنچنا ہے جو دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو اس منصوبہ کا معائنہ کرائے گا اور جب موسم بنتا ہے ایسا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بات چیت اس مرحلہ پر نہیں پہنچی کہ معائنہ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین ماہ میں بات چیت کے دوران میں یا اس تنازعہ کے حل کے بعد یہ معائنے کرایا جاسکتا ہے۔ ڈی کے مہتا نے کہا کہ اس معاملہ پر مذاکرات کا دوسرا دور اسی ماہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||