بگلیہار ڈیم کی تعمیر جاری ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نےان خبروں کی تردید کی ہے کہ بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کی متنازعہ تعمیر کا کام روک دیا ہے اور کہا ہے کہ تنازعہ اس مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔ تاہم دریائے جہلم پر بھارت کی طرف سے کشن گنگا ڈیم کی متنازعہ اور مجوزہ تعمیر پر مذاکرات کیلے دونوں ممالک کے پانی کے ماہرین کا اجلاس سات سے بارہ مئی تک لاہور میں ہو گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بگلیہار ڈیم پر تعمیراتی کام رکنے سے متعلق خبر درست نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے متنازعہ ڈیم پر تعیمر کا کام روک دیا ہے؟ تو انہوں نےکہا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور اب تو تنازعہ آگے بڑھ چکا ہے اور عالمی بنک نے تنازعے کے حل کےلیے دونوں ملکوں کو تین ماہرین پر مشتمل مہیا کی ہے۔ تاکہ تنازعہ غیر جانبدار ماہر کا تقرر کیا جاسکے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ملکوں کو نو مئی تک ان ماہرین میں سے اپنی پسند سے آگاہ کرنے کو کہا ہے۔ پاکستان نے دو طرفہ مذاکرات میں ناکامی کے بعد بگلیہار ڈیم پر جنوری کے مہینے میں عالمی بنک سے باضابطہ رجوع کیا کہ وہ غیر جانبدارنہ ماہر کا تقرر کرے۔ پاکستان کے مطابق مجوزہ منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ جسکی وجہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کو روزانہ سات سے آٹھ ہزار کیوسک پانی کی کمی ہو گی۔ جس سے زراعت متاثر ہو گی اور پاکستان کی دفاعی نقطہ نظر سے بھی نقصان ہو گا۔ دریں اثنا پاکستان نے کمشنر برائے سندھ طاس کمیشن جماعت علی شاہ نے بھی اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی کہ بھارت نے بگلیہا ڈیم کی متنازعہ تعمیر کا کام روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بنک نے تو اب دونوں ملکوں سے غیر جانبدار ماہر کے تقرر کے سلسلے میں تین ناموں پر رائے مانگی ہے اور دونوں مملک کو اپنی ترجیح کا اظہار نو مئی تک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان تین ماہرین کا تعلق برازیل ، سویٹرزلینڈ اور آسٹریلیا سے ہے، تاہم انہوں نے ماہرین کے نام بتانے سے گریز کیا۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ ان کو بھارت کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے مجوزہ کسن گنگا ڈیم کے متنازعہ امور پر مذاکرات کے لیے بھارتی ماہرین کا ایک وفد اگلے ماہ کی سات سے بارہ تاریخ تک لاہور کا دورہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ روزہ اجلاس میں صرف کشن گنگا ڈیم زیر بحث آئے گا۔ پاکستان کا خیال ہے کہ بھارت کی طرف سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف سے بہنے والے دریائے نیلم کا پانی 27 فیصد تک کم ہوجائیگا اور ایک ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والے مجوزہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ پاکستان کی طرف سے تعمیر کیے جانے والےاس منصوبے کی پیداواری صلاحیت 969 میگاواٹ ہوگی۔ پاکستان چند ہفتوں میں اس کی تعمیر کیلیے ٹینڈر جاری کرئے گا۔ معاہدے کی رو سے بھارت کو دریائے جہلم کے ایک نالے ماود کپتی کا رخ بدلنے کا اختیار نہیں ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ اس نالے کا رخ موڑ کر دریائے نیلم سے ؤولر بیراج کے ذریعے دریائے جہلم کی طرف بدل دیا جائے۔ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے مطابق مغربی دریاؤں پر جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق ہے۔ جبکہ مشرقی دریاؤں ، راوی ، چناب اور بیاس بھارت کی ملکیت ہیں۔ گزشتہ 45 سالوں میں بگلیہار ڈیم کا پہلا تنازعہ ہے جس میں عالمی بنک سے رجوع کیا گیا ہے۔ اس معاہدے پر عالمی بنک کے بھی دستخط ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||