BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 January, 2005, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگلیہار مذاکرات ناکام

بات چیت چار روز سے جاری تھی
بات چیت چار روز سے جاری تھی
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر میں دریائے چناب پر متنازعہ بگلیہار پروجیکٹ پر بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ہندوستان کا رویہ لچکدار نہیں تھا اس لۓ کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی ہے اور اگلے قدم کے طور پر وہ غیرجانب دار ماہرین کی مدد لےگا۔

جب کہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اسے اب بھی اس تنازعے کی بات چیت کے ذریعے حل نکلنے کی امید ہے لیکن اگر پاکستان ورلڈ بینک سے رجوع کرتا ہے تو حکومت منا سب قدم اٹھايگی ۔

بگلیہار ڈیم پر بات چیت دو روز کے لۓ طے تھی لیکن چار دن تک جارے رہنی والے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود بے نتیجہ رہے۔اختلاف اس قدر تھے کہ دونوں کی مشترکہ پریس کانفرنس جو پہلے ہی سے طے تھی الگ الگ ہوئیں۔

پاکستان میں آبی اور توانانی وسائل کے سکریٹری اشفاق محمود نے بتایا کہ ہندوستان نے اس پروجیکٹ کی تعمیر یکطرفہ شروع کی تھی اور کئی بار بات چیت ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس کےرویۓ میں ذرا سی بھی نرمی نہیں ہے اسی لۓ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد نے اس معاملے کے تقریبا سبھی پہلوؤں پر بات کی گئی تاہم ہندوستان اسکے موقف کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ'' کہ ہندوستان دریائے چناب پر جس ڈیم کی تعمیر کررہا ہے اس سے دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس ڈیم کی تعمیر کا مخالف نہیں ہے لیکن جس نوعیت سے اسے ڈیزائین کیا گیا ہے اس سے پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پانی کے متعلق معاہدے میں ان تمام معاملات پر بڑے واضح انداز میں اصول بتائے گۓ ہیں اور اسی کے متعلق بات کی گئی ہے۔ لیکن بھارت اپنے موقف پر بدستور قائم ہے۔

پاکستان میں آبی اور توانانی وسائل کے سکریٹری اشفاق محمود نے کہا اب پاکستان کے پاس یہی راستہ ہے کہ وہ غیر جانب دار ماہرین کی مدد لے''۔

مسٹر اشفاق محمود نے مزید کہا کہ اس معاملے کے تقریبا سبھی تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت ہوئی ہے۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان ویسے بھی عالمی بینک کا سہارہ لینے پر غور کرہا تھا لیکن وزیراعظم شوکت عزیز کے ہندوستان دورے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ایک بار اور دوطرفہ بات چیت ہونی چاہیۓ لیکن یہ آخری کوشش بھی ناکام ثابت ہوئیں۔

پاکستان کی نیوز کانفرنس کے بعد اشفاق محمود اور انکے ہندوستانی ہم منصب وی کے دگل کے درمیان دوبارہ بھی بات چیت ہوئی لیکن پیش رفت کچھ بھی نہیں ہوئی۔

بعد میں ہندوستان نے بھی اپنی الگ نیوز کانفرنس کی اور کہا کہ بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی ہے لیکن فریقین اب بھی اپنی پہلے ہی کے موقف پر قائم ہیں ۔

ہندوستانی وفد کے قائد وی کے دگل کا کہنا تھا کہ'' ہمارے خیال سے بات چیت تعمیری ماحول میں ہوئی لیکن مجھے اس بات کا احساس ہے کہ اس سلسلے کو آئندہ ایک ہفتے تک مزید بڑھانے پر پاکستان راضی نہیں ہوا۔ ہمیں امید ہے کہ اس مسئلے کو گفت وشنید سے حل کیا جاسکتاہے'' ۔

اس مسئلے پر پاکستان کا رویہ یہ تھا کہ اگر مزید بات جیت ہونی ہے تو ڈیم کی تعمیر کو پہلے روکا جائے اور پھر بات چیت ہو۔ لیکن ہندوستان اس پر راضی نہیں ہے۔ اسکا کہنا تھا کی بگلیہار پروجیکٹ کو روکا نہیں جاسکتا۔ لیکن پاکستان کی شکایات کو سنا ضرور جاسکتا ہے۔

مسٹر دگل نے کہا کہ بات چیت میں کئی نکات پر پیش رفت بھی ہوئی تھی لیکن یہ معاملہ اتنی جلدی حل ہونے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا '' ہم نے سنا ہے کہ پاکستان اس مسئلے پر غیرجانب دار ماہرین سے مدد لینا چاہتا ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو ہندوستانی حکومت اپنے موقف کو پیش کریگی۔ہمارا کہنایہ ہے کہ بگلیہار پروجیکٹ کی تعمیر سے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہے اور سب کچھ اصولوں کے مطابق ہے''۔

ہندوستان نے دریائے چناب پر بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی تعمیر 1992 میں شروع کی تھی۔ پروجیکٹ تقریبا 35 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو ورلڈ بینک سے رجوع کیا جاتا ہے تو پھر ماہرین کی فریقین سے بات چیت ، ڈیم کا معائنہ اور پھر پر اس پر فیصلہ لینا ان سب میں کافی وقت لگےگا اور ممکن ہے تب تک یہ پر جیکٹ مکمل بھی ہو جائے ۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1960 ميں انڈس معاہدہ کے تحت ورلڈ بینک کو آبی مسائل میں اختلافات کی صوورت میں ثالث بنایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد