بگلیہار پروجیکٹ پر بات چيت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے حکام نے دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے نئ دلی میں بات چیت کی ہے۔ دوروزہ بات چیت کے پہلے مرحلے میں فریقین نے متنازعہ بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں فریقین کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گيا ہے۔ بات چیت کے لیے پاکستان سے نو رکنی وفد نئی دلی آیا ہے جس کی قیادت وہاں کے آبی وسائل اور بجلی کے سیکریٹری اشفاق محمود کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کے ہندوستانی ہم منصب وی کے دگل بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ مذاکرات سے قبل پاکستانی وفد نے آبی وسائل کے مرکزی وزیر پر یہ رنجن داے منشی سے ملاقات کی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان یوں تو آبی تنازع ملک کی تقسیم کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا لیکن ساٹھ کی دہائی میں پانی کی تقسیم پر دونوں کے درمیان انڈس واٹر ٹریٹی کے نام سے ایک معاہدہ ہوگیا تھا۔ موجودہ اختلافات کچھ نئے توانائی کے پروجیکٹ کے حوالے سے ہیں۔ ہندوستان کشمیر میں دریاے چناب کے پاس بگلیہار ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ کی تعمیر کر نا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان نے اس کی ابتدا ہی سے مخالفت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس پرجیکٹ کی تعمیر انڈس معاہدے کے خلاف ہے۔ اس کے مطابق جس طرح سے اس پروجیکٹ کی تعمیر ہو رہی ہے اس سے پاکستان کو ہر روز تقریباً آٹھ ہزار کیوسک پانی کا نقصان ہوگا۔ اور نتیجتاً اس کا آب پاشی کا نظام متاثر ہوگا۔ منگل کو ہونے والی بات چیت سے قبل پاکستان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ اس کی آخری کوشش اوراگر یہ معاملہ اس بار بھی بات چیت سے حل نہ ہوا تو وہ انصاف کے لیے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||