بس سروس پر مذاکرات بےنتیجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے بارے میں بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی ہے۔ دلی میں دوروزہ مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ یہ بات چیت بہت ہی دوستانہ، پرخلوص اور تعمیری ماحول میں ہوئی۔ بات چیت میں بس سروس شروع کرنے کے ہر تکنیکی پہلو اور مشکلات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔لیکن مذاکرات میں کوئی جامع پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ دونوں فریق صرف اس بات پر متفق ہوسکے ہیں کہ مستقبل میں بھی بات چیت جاری رہیگی لیکن اگلی بات چیت کی تاریخ پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ سری نگر مظفرآباد بس سروس شروع کرنے میں بنیادی اختلافات سفری دستاویز کے سوال پر ہے۔مذاکرات کے دوران ہندوستان نے یہ تجویز پیش کی کہ سفر کے لیے پاسپورٹ کے بجاۓ خصوصی اجازت نامہ یا پرمٹ جاری کیا جاۓ۔ لیکن اس کے ساتھ پاسپورٹ کو شناخت کا بنیادی دستاویز تسلیم کیا جاۓ۔ پاکستان کو پاسپورٹ کےاستعمال پر اعتراض ہے کیونکہ اس قدم کا مطلب کنٹول لائن کو بین الااقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کر نا ہے۔اس سوال پر بھی اختلافات دور نہیں ہو سکے کہ اس بس سے صرف کشمیری سفر کریں گے یا غیر کشمیری بھی؟ کنٹرول لائن کے دونوں جانب اس بس سروس کو شروع کرنے کے لۓ دونوں ملکوں پر کافی دباؤ ہے۔ اس بس سروس کی تجویز ہندوستان نے پیش کی تھی اور وہ اس سروس کو شروع کرنے میں بظاہر دلچسپی بھی رکھتا ہے۔کیونکہ کشمیر کے دونوں جانب آمدورفت شروع ہو جانےسے وہ عالمی برادری کو یہ تاثر دے سکتا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات معمول پر ہیں اور یہ تصور غلط ہے کہ کشمیر کی صورت حال انتہائی خراب ہے جو نیوکلیائی جنگ کا سبب بن سکتی ہے ۔ یہ بات چیت غیرمیعنہ مدت کے لۓ ملتوی ہو گئی ہے اور فی الوقت اس طرح کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ یہ بس سروس مستقبل قریب میں شروع ہو سکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||