مشترکہ سروے جنوری میں ہوگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بھارت مذاکرات کے پہلے دن ’سرکریک‘ کے مقام پر متنازعہ سمندری سرحدی حدود کے تعین کا مشترکہ سروے جنوری کے پہلے ہفتے میں کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ یہ اتفاق منگل کو اس موضوع پر ہونے ہوالے دو روزہ مذاکرات کے پہلے روز کیا گیا۔ بات چیت کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت سرویئر جنرل، میجر جنرل جمیل الرحمٰن آفریدی جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی ڈپٹی سرویئر جنرل، بریگیڈیئر گرش کمار نے کی۔ حکام کے مطابق جوہری اسلحہ کے متعلق اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے بارے میں مذاکرات کے پہلے روز، دو دور ہوئے اور اس دوران تجاویز کا تبادلہ اور ان پر غور کیا گیا۔ دونوں ممالک کے سینیئر حکام نے میزائل تجربات سے قبل ایک دوسرے کو باضابطہ طور پرآگاہ کرنے کے لیے معاہدے کے متن کا جائزہ بھی لیا۔ وزارت دفاع کی جانب سے سرکریک کے متعلق بات چیت کے بارے میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ’دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو مثبت انداز میں سمجھا اور عمومی طور پر اتفاق رائے نظر آیا‘۔ حکام کے مطابق سمندری حدود کے مشترکہ سروے کے لیے تین جنوری کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔ تاہم اس بات کا حتمی تعین اور اعلان بدھ کو ہی متوقع ہے کہ کون سی تاریخ مقرر ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام پہلے دن کے مذاکرات کی زیادہ تفصیلات تو نہیں بتا رہے البتہ یہ کہا جارہا ہے کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے جو بدھ کو بھی جاری رہیں گے۔حکام کے مطابق بدھ کے روز مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ہی مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔ منگل کو جوہری اعتماد کی بحالی کے اقدامات اور سرکریک کے متعلق بات چیت میں دونوں ممالک نے علیحدہ علیحدہ وفود کی سطح پر تبادلہ خیال کیا۔ جوہری اعتماد کی بحالی کے اقدامات یعنی ’سی بی ایمز‘ کے بارے میں مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت طارق عثمان حیدر جبکہ جوہری معاملات میں بھارتی وفد کی سربراہی میرا شنکر نے کی۔ بدھ کے روایتی ہتھیاروں کے متعلق’سی بی ایمز‘ پر بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت طارق عثمان حیدر جبکہ بھارتی وفد کی قیادت ارون کمار کریں گے۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک نے اس ضمن میں یاداشت نامے پر دستخط کر رکھے ہیں اور اب اس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئےاسے معاہدے کی صورت دینا چاہتے ہیں۔ مجوزہ معاہدے میں مدت مقرر کرنے کی تجویز ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو مقررہ مدت تک تجربات سے قبل مطلع کرنے کے پابند ہوں گے۔ سمندری حدود کے متعلق بات چیت کے لیے آئے ہوئے مہمان وفد نے وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری رئیر ایڈمرل احسان الحق چودھری سے ملاقات بھی کی۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے ملاقاتیں جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ احسان الحق چودھری نے اس موقع پر کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک نے اچھی ابتدا کی ہے اور اس سے قدم بقدم تعلقات میں بہتری کا راستہ ہموار ہوگا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جوہری اعتماد کی بحالی کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں میزائل تجربے سے قبل دونوں ممالک کا ایک دوسرے کو مقررہ مدت کے اندر پیشگی اطلاع دینے کے بارے میں معاہدہ ہونے کی طرف خاصی مثبت پیش رفت ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||