بیراج: مذاکرات جاری رکھنے پراتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان وولر کے مقام پر متنازعہ بیراج کی تعیمر کے مسئلہ پر دو روزہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔ البتہ فریقین نے سندھ طاس معاہدے کے تحت اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے پر کی کوششوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر پاکستان اور بھارت کے حکام خوشگوار ماحول میں بات چیت کے علاوہ کچھ زیادہ پیش رفت بتانے کو تیار نظر نہیں آرہے تھے۔ رسمی بیان کے علاوہ انہوں نے صحافیوں سے زیادہ بات کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قضیے کا حل دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے اندر رہتے ہوئے تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اشفاق محمود کا کہنا تھا کہ فریقین نے انیس سو ساٹھ میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے احترام کا عزم دوہرایا اور مستقبل میں اس مسئلے کا حل اسی معاہدے کے تحت تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات کے لئے آئے ہوئے دس رکنی بھارتی وفد کی سربراہی وی کے دوگل کر رہے تھے۔ وی کے دوگل نے کہا: ’فریقین نے ایک دوسرے کے موقف کا احترام کیا اور کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کے مشاہدات پر بات ہوئی۔ اس قسم کے تکنیکی مسائل پر جلد فیصلے پر پہنچنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ لہذا ہم متفق ہیں کہ مذاکرات کے اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔‘ وی کے دوگل نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ فریقین نے بات چیت کو جاری رکھنے کا فیصلے تو کیا ہے لیکن اگلی ملاقات کے وقت یا مقام کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ بھارت نے انیس سو پچاسی میں دریائے جہلم پر وولر جھیل کے مقام پر ایک بیراج کی تعمیر شروع کی تھی البتہ اس پر کام پاکستان کی جانب سے اعتراض کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔ پاکستان نے اسے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے اس کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم بھارت کا موقف ہے کہ اس سے دریا میں پانی کی سطح پر وہ بہتر انداز میں نظر رکھ سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||