مذاکرات ’تسلی بخش‘ رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائے جہلم پر وولر بیراج کی تعمیر کے تنازعہ سے متعلق پاکستان اور بھارت میں جمعرات کو مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے جسے فریقین نے تسلی بخش قرار دیا ہے۔ دوسرا اور آخری دور کل ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان وولر بیراج کی تعمیر کے تنازعہ پر مذاکرات کا سلسلہ تقریباً چھ برس کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔ جمعرات کو سیکرٹری سطح مذاکرات حکام کے بقول انتہائی خوشگوار ماحول میں شروع ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات میں شرکت کے لئے دس رکنی بھارتی وفد بدھ کو اسلام آباد پہنچا تھا۔ اس وفد کی سربراہی آبی وسائل کے سیکرٹری وی کے ڈوگل جبکہ پاکستانی ٹیم کی قیادت سیکرٹری پانی اور بجلی اشفاق محمود کر رہے ہیں۔ پہلے دور میں فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ پاکستان کی وزارت پانی اور بجلی کے سید جماعت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے تنائج کے بارے میں ایک تفصیلی بیان جمعہ کو ہونے والے دور کے بعد جاری کیا جائے گا۔ بھارت نے انیس سو پچاسی میں دریائے جہلم پر وولر جھیل کے مقام پر ایک بیراج کی تعمیر شروع کی تھی البتہ اس پر کام پاکستان کی جانب سے اعتراض کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔ پاکستان نے اسے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے اس کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم بھارت کا موقف ہے کہ اس سے دریا میں پانی کی سطح پر وہ بہتر انداز میں نظر رکھ سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||