| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذاکرات فروری میں
ہندوستان اور پاکستان نے اگلے ماہ سے جموں و کشمیر سمیت تمام معاملات پر جامع دو طرفہ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا اعلان منگل کو اسلام آباد میں سارک سربراہ اجلاس کے اختتام کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ یشونت سنہا اور پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے دونوں ملکوں کا مشترک بیان الگ الگ پریس کانفرنس میں جاری کرتے ہوۓ کیا۔ آگرہ میں ڈھائی برس پہلے دونوں ملکوں کی سربراہ ملاقات میں دونوں ملک کوئی مشترک بیان بھی جاری نہیں کرسکے تھے اس اعتبار سے آج کا بیان ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔ تاہم مذاکرات کس سطح پر ہوں گے دونوں وزراۓ خارجہ نے یہ بتانے سے انکار کیا۔ یشونت سنہا نے کہا کہ ان مذاکرات کی تفصیل ابھی طے کی جارہی ہے۔ مشترک بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلقات کی بحالی کا عمل آگے لے جانے کے لیے صدر پاکستان اور ہندوستان کے وزیراعظم نے اس پر اتفاق کیا کہ جامع مذاکرات فروری سنہ دو ہزار چار سے شروع کیے جائیں گے۔ مشترک بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ جامع مذاکرات کی بحالی کا نتیجہ جموں و کشمیر سمیت تمام دو طرفہ معاملات کے ایسے پرامن تصفیہ کی صورت میں نکلے گا جو دونوں کے اطمینان کا باعث ہوگا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعمیری دو طرفہ مذاکرات سے خطے کے لوگوں اور مستقبل کی نسلوں کے لیے امن، سلامتی اور معاشی ترقی کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان اور ہندوستان کے وزیراعظم سارک سربراہ اجلاس میں ملے۔ مشترک بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے حالیہ اقدامات کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ حالیہ اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے مثبت رجحانات کو مضبوط بنایا جاۓ گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم واجپئی نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کو آگے لے جانے کے لیے اور برقرار رکھنے کے لیے تشدد، معاندانہ رویے اور دہشت گردی کو روکا جانا لازمی ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق صدر مشرف نے وزیراعظم واجپئی کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے زیرانتظام علاقہ سے کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ صدر مشرف نے زور دیا کہ تمام معاملات پر مسلسل اور کارآمد مذاکرات مثبت نتائج پیدا کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پچھلے پانچ دنوں سے اس مشترکہ بیان کے ہر لفظ اور کوما اور فل اسٹاپ پر غور کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں ہندوستان کے سلامتی امور کے مشیر برجیش مشرا بھی شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یکم جنوری سے پاکستان کے متعدد سرکاری لوگوں سے ملے لیکن وہ ان کے نام نہیں بتاسکتے۔ تاہم انھو ں نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے کسی ملاقات سے انکار کیا۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ مشترکہ بیان کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ دونوں کی کامیابی ہے اور دونوں ملکوں کے عوام کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے ایک فتح ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ یہ بیان اعتدال، تدبر ، اچھی سوچ اور جنوب ایشیا کے غریب عوام کی فتح ہے اور اسے کسی ایک ملک کی فتح کی صورت میں نہ دیکھا جاۓ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||