بگلیہار ڈیم پر سوئس ثالث مقرر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ بنک نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کے تحت دریائے چناب پر بنائے جانے والے بگلیہار ڈیم پر ثالثی کے لیے سوئزرلینڈ کے ماہر پروفیسر رےمنڈ لیفتے کا تقرر کردیا ہے۔ پاکستان میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت مقرر کیے گئے کمشنر جماعت علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تقرر کی تصدیق کی اور کہا کہ دونوں ملکوں نے سوئس ماہر کے نام پر اتفاق کیا ہے۔ لیفتے سول انجینئر ہیں اور لاؤسانے میں سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پروفیسر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ سوئس ماہر اپنا کام کتنی مدت میں پورا کریں گے اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے لیکن وہ دونوں فریقین کے موقف کی سماعت کریں گے۔ ورلڈ بنک کا کہنا ہے کہ اس سال کے شروع میں پاکستان نے اس سے بگلیہار منصوبہ پر اختلافات کے سلسسلہ میں ایک غیرجانبدار ماہر مقرر کرنے کی درخواست کی تھی۔ سندھ طاس معاہدہ کی شرائط کے تحت ورلڈ بنک کا کہنا ہے کہ غیرجانبدار ماہر کی سفارشات حتمی ہوں گی اور فریقین کے لیے انہیں ماننا لازمی ہوگا۔ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق تین دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پاکستان کو دیے گئے تھے۔ پاکستان میں بہنے والے یہ دریا بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان کی حدود میں داحل ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||