بگھلیار ڈیم، عالمی بینک کی ثالثی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت کے ساتھ بگھلیار ڈیم پر مذاکرات میں ناکامی کے بعد عالمی بینک کو اس تنازعے کے حل کے لیے ثالث بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس سلسلے میں دفتر خارجہ منگل کو ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا با ضابطہ اعلان کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ منگل کو وزیر اعظم شوکت عزیز کی زیر صدارت ہونے والےکابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔گزشتہ ہفتے بھارت سے مذاکرات کرنے والی پاکستانی ٹیم نے وزیر اعظم کو مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔ اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بھارت سے ڈیم کے تنازعے کےدو طرفہ حل کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں لہذا ثالثی کے حل کے لیے عالمی بینک سے رجوع کیا جائے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ وہ عالمی بینک کے پاس ثالثی کے حل کے لیے درخواست دائر کریں اور اس سلسلے میں تمام قانونی اورتکنیکی نکات پر کام جلد مکمل کیا جائے۔ دفترخارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تنازعے پرمذاکرات اسی صورت میں جاری رہ سکتے جب بھارت ڈیم کی تعمیر روکنے پر تیار ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام اس بات پر راضی نہیں ہیں۔ مسعود خان نےکہا کہ پاکستان کو عالمی بینک کی ثالثی پر پورا اعتماد ہے کیونکہ عالمی بینک نے ماضی میں دونوں ممالک کے دوران معاہدہ کروایا تھا۔ واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||